حقیقة المہدی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 409 of 550

حقیقة المہدی — Page 409

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۴۰۹ ايام الصلح سچا آنا چاہیئے اور اُس کے مقابل پر کوئی سچا ظاہر نہ ہو۔ حالانکہ خدا کے مقرر کردہ موسم اور وقت نسیم صبا کی طرہ گواہی دے رہے ہیں کہ یہ کسی بچے کے مبعوث ہونے کا وقت ہے نہ جھوٹے مفتری کذاب کا وقت کیونکہ خدا کی غیرت جھوٹے کو ہرگز یہ موقعہ نہیں دیتی کہ سچے کے وقتوں اور علامتوں سے فائدہ اُٹھا سکے۔ کہاں ہے وہ سچا جس کو صدی کے سر پر آنا چاہیے تھا ؟ کہاں ہے وہ سچا جس کو غلبہء صلیب کے وقت میں آنا چاہیے تھا ؟ کہاں ہے وہ سچا جس کے صحتِ دعوی پر رمضان کے خسوف کسوف نے گواہی دی؟ کہاں ہے وہ سچا جس کی تصدیق کے لیے جاوا کی آگ نکلی؟ کہاں ہے وہ سچا جس کے ظہور کی علامت ظاہر کرنے کے لیے یا جوج ماجوج کی قوم ظاہر ہوئی یعنی اس قوم کا ظہور ہوا جو اپنی تمام مہمات میں اجیج یعنی آگ سے کام لیتی ہے۔ اس کی لڑائیاں آگ سے ہیں۔ اس کے سفر آگ کے ذریعہ سے ہیں۔ ان کی ہزاروں کلیں آگ کے ذریعہ سے چلتی ہیں اس لئے خدا نے اپنی مقدس کتابوں میں ان کا نام آتشی قوم یعنی یا جوج ماجوج رکھا جو پانیوں کے قریب رہتے اور آگ سے کام لیتے ہیں۔ اب کہو کہ جب کہ اس سچے مسیح اور سچے مہدی کی تمام علامتیں ظاہر ہو گئیں تو پھر وہ مسیح موعود کہاں ہے؟ کیا خدا کے وعدے نے تخلف کیا حاشا و کلا بلکہ وہ تم میں موجود ہے جس کو تم نے شناخت نہیں کیا۔ وہ آگ والوں کے ساتھ آگ سے نہیں بلکہ پانی سے لڑے گا جو اوپر سے آتا اور دلوں میں سچائی کا سبزہ اُگا تا اور پیاسوں کو ٹھنڈک پہنچاتا ہے۔ قوله دو حلیوں کا بیان جو احادیث میں ہے یہ ایک رؤیا اور کشف ہے اس لئے جیسا کہ خوابوں کے ۱۶۲ حالات ہوتے ہیں ایک حلیہ دو حلیوں کے رنگ میں نظر آ سکتا ہے۔ اقول ۔ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کشف اکمل اور اتم پر بدگمانی ہے اس پر تمام اسلامی فرقوں کا اتفاق ہے کہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کا کشف اور خواب وحی ہے اور اگر وحی میں اختلاف ہو تو اس سے تمام شریعت درہم برہم ہو جائے ۔ اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رؤیا کی شان میں ایسا گمان کر نا سخت بے ادبی ہے اس سے تو بہ کرنی چاہیے اگر وحی نبوت میں کبھی کچھ بیان ہو اور کبھی کچھ تو اس سے امان اٹھ جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ وَلَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللهِ لَوَجَدُوا فِيْهِ اخْتِلَافًا كَثِيرًا فَتَأَمَّل ا النساء: ۸۳