حقیقة المہدی — Page 395
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۳۹۵ ایام الصلح اسی طرح حضرت مسیح علیہ السلام کی روحانیت نے اپنا خاصہ روح اللہ ہونے کا اس کے اندر ڈالا۔ یادر ہے کہ خدا تعالیٰ کے لطف اور احسان اس کے انبیاء علیہم السلام پر گوناگوں پیرایوں میں نازل ہوتے ہیں ہیں کسی ۔ ۔ سی : نبی کی علمی اور عملی تکمیل بلا واسطہ ہوتی تی ہے ہے اور اور کسی کہ کی تکمیل میں میں بعض بعد وسائط بھی ہوتے ہیں سو یہ خاص فضل کی بات ہے کہ جیسا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ کی علمی تحمیل بغیر واسطہ کسی دوسرے اُستاد کے ہو کر اسی لحاظ سے آپ کو مہدی کا لقب ملا ایسا ہی عملی تکمیل بھی بلا واسطہ ہو کر عبد کا لقب ملا کیونکہ نہ آپ کی تعلیم کسی انسان کی معرفت ہوئی اور نہ آپ کی عملی طاقتیں کسی مہذب مجلس کی صحبت سے پیدا ہوئیں۔ اور اسی خالص مہدویت کے نام کے لحاظ سے آپ کو بہت سے اسرار اور معارف اور گلم جامعہ بخشے گئے یہاں تک کہ قرآن شریف میں اس قدر معارف اور نکات اور علوم حکمیہ الہیہ اور دلائل عقلیہ فلسفیہ اعلیٰ درجہ کی بلاغت اور فصاحت کے ساتھ بیان فرمائے گئے کہ وہ ان تمام معارف اور بلاغت کاملہ کے لحاظ سے ایک اعلیٰ درجے کا علمی معجزہ ٹھہر گیا جس کی نظیر ۱۴۹ پیش کرنا تمام جن وانس کی طاقت سے باہر ہے ۔ سو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ اعلیٰ کمال جس سے آپ کی خصوصیت تھی مہدویت اور عبودیت ۔ ہے۔ آپ کی مہدویت کا ہی اثر تھا کہ اُس بقیه حاشيه مُعَبَّدٌ وَ طَرِيقٌ مُعَبَّدٌ جہاں راہ نہایت درست اور نرم اور سیدھا کیا جاتا ہے اس راہ کو طریق معبد کہتے ہیں ۔ پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس لئے عبد کہلاتے ہیں کہ خدا نے محض اپنے تصرف اور تعلیم سے اُن میں عملی کمال پیدا کیا اور ان کے نفس کو راہ کی طرح اپنی تجلیات کے گذر کے لئے نرم اور سیدھا اور صاف کیا اور اپنے تصرف سے وہ استقامت جو عبودیت کی شرط ہے ان میں پیدا کی ۔ پس وہ علمی حالت کے لحاظ سے مہدی ہیں اور عملی کیفیت کے لحاظ سے جو خدا کے عمل سے ان میں پیدا ہوئی عبد ہیں کیونکہ خدا نے ان کی روح پر اپنے ہاتھ سے وہ کام کیا ہے جو کوٹنے اور ہموار کرنے کے آلات سے اس سڑک پر کیا جاتا ہے جس کو صاف اور ہموار بنانا چاہتے ہیں۔ اور چونکہ مہدی موعود کو بھی عبودیت کا مرتبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے حاصل ہوا ۔ اس لئے مہدی موعود میں عبد کے لفظ کی کیفیت غلام کے لفظ سے ظاہر کی گئی یعنی اس کے نام کو غلام احمد کر کے پکارا گیا ۔ یہ غلام کا لفظ اس عبودیت کو ظاہر کرتا ہے جو ظلی طور پر مہدی موعود میں بھی ہونی چاہیے ۔ فتدبر ـ منه