حقیقة المہدی — Page 385
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۳۸۵ ايام الصلح ہوئی پھر قرآن شریف کی آیت فِيهَا تَحْيَوْنَ ل سے موت ثابت ہوئی اور پھر قرآن شریف کی آیت وَلَكُمْ فِي الْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ سے موت ثابت ہوئی کیونکہ ان دونوں آیتوں سے ثابت ہوا کہ آسمان پر جسمانی زندگی اور قرار گاه کسی انسان کا نہیں ہو سکتا۔ پھر آیت رَفَعَهُ اللهُ إِلَيْه سے سے موت ثابت ہوئی ۔ کیونکہ تمام قرآن میں یہی محاورہ ہے کہ خدا کی طرف اُٹھائے جانے یا رجوع کرنے سے موت مراد ہوتی ہے جیسا کہ آیت ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً " سے بھی موت ہی مراد ہے اور پھر گانا يَا كُنِ ﴿۱۰﴾ الطعام شہ سے موت ثابت ہوئی کیونکہ اس آیت میں حضرت عیسیٰ اور حضرت مریم کی نسبت نفی لوازم حیات کا بیان ہے جو بدلالت التزامی اُن کی موت کو ثابت کرتا ۔ ہے اور پھر آیت وَأَوْصُنِي بِالصَّلُّوةِ وَالزَّكُوةِ مَا دُمْتُ حَيَّال سے موت ثابت ہوئی کیونکہ کچھ شک نہیں کہ جیسا کہ کھانے پینے سے اب حضرت عیسی علیہ السلام بروئے نص قرآنی معطل ہیں ایسا ہی دوسرے افعالِ جسمانی زکوۃ اور صلوٰۃ سے بھی معطل ہیں ۔ بلکہ زکوۃ تو علاوہ جسمانیت کے مال کو بھی چاہتی ہے اور آسمان پر روپیہ پیسہ ہونا معلوم انجیل سے ثابت ہے کہ حضرت عیسی ایک مالدار آدمی تھے کم سے کم ہزار و پید ان کے پاس رہتا تھا جس کا خزانچی یہودا اسکر یوطی تھا۔ اب کیا وہ روپیہ آسمان پر ساتھ لے گئے تھے؟ اور ایسا ہی آیت وَمِنْكُمْ مَّنْ يُتَوَفَّى وَمِنْكُمْ مَّنْ يُرَدُّ إِلَى أَرْذَلِ الْعُمُرِ ے سے حضرت عیسی کی موت ثابت ہوتی ہے کیونکہ قرآن شریف میں باوجود تکرار مضمون اس آیت کے یہ فقرہ کہیں نہیں آیا کہ منكم من صعد الى السماء بجسمه العنصرى ثم يرجع في آخر الزمان یعنی تم میں سے ایک وہ بھی ہے جو جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر چڑھ گیا اور پھر آخری زمانہ میں دنیا میں واپس آئے گا ۔ پس اگر یہ سچ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام جسم عنصری آسمان پر چلے گئے تو قرآن شریف کی یہ حصر نا تمام رہے گی ۔ کیونکہ آسمان پر چڑھنے کی نسبت خدا نے اس آیت یا کسی دوسری آیت میں ذکر نہیں کیا اور اگر در حقیقت خدا کی یہ بھی سنت تھی تو تکمیل بیان کے لئے اس کا ذکر کرنا ضروری تھا ۔ اور جب کہ کئی دفعہ قرآن شریف میں الاعراف : ٢٦ ٢ البقرة : ۳۷ ۳ النساء : ۱۵۹ الفجر : ۲۹ ۵ المآئدة : ۷۶ مریم : ۳۲ کے الحج: ۶