حقیقة المہدی — Page 382
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۳۸۲ ايام الصلح ☆ بلکہ یہ تمام آیتیں جہاں لکھا ہے کہ جب فرشتے نازل ہوں گے تو ایمان بے فائدہ ہوگا اور وہ فیصلے کا وقت ہوگا نہ بشارت اور ایمان کا وقت بلند آواز سے پکار رہی ہیں کہ حضرت عیسی کا آسمان سے فرشتوں کے ساتھ اُتر نا سراسر باطل ہے اور اگر یہ باطل نہ ہوتا تو دنیا میں یعنی گزشتہ زمانے میں اس کی کوئی نظیر بھی ہوتی مگر کون بیان کر سکتا ہے کہ کبھی کوئی شخص اسی جسم عنصری ۔ کے ساتھ عالم بیداری میں آسمان پر جا کر پھر واپس آیا ۔ اگر خدا تعالیٰ کی یہ سنت تھی تو گو یا دیدہ و دانستہ خدا تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ کو ایلیا کے دوبارہ آنے کے مقدمہ میں یہودیوں کے روبروئی شرمندہ ۱۳۸ کیا اور یہ کہنا کہ یہودیوں اور عیسائیوں نے باہم مل کر اس قصے کو تحریف کر دیا ہو گا یہ اس درجہ کی حماقت ہے جس پر بچے بھی ہنسیں گے ۔ غرض مسیح کا آسمان سے اُس طرح پر نازل ہونا جیسا کہ ہمارے مخالف انتظار کر رہے ہیں قرآن کے نصوص صریحہ کے مخالف ہے ۔ ایک گروہ اکابر صوفیہ نے نزولِ جسمانی سے انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ مسیح موعود کا نزول بطور بروز کے ہوگا ۔ چنانچہ کتاب اقتباس انوار میں جو تصنیف شیخ محمد اکرم صابری ہے یہ بات یاد رکھنے کے لائق ہے کہ جس قدر حضرت عیسی علیہ السلام کی طرف انجو بے منسوب کئے گئے ہیں ان کی نظیر ہونا نہایت ضروری ہے کیونکہ ایک قوم نے اُن کو خدا کر کے مان لیا ہے۔ پھر اگر حضرت عیسی کے کاموں اور ذات اور صفات کی نظیر نہ ہو تو یہ خصوصیت جاہلوں کی نظر میں ان کی خدائی پر ایک دلیل ٹھہرتی ہے چنانچہ پادریوں کا آج کل پیشہ ہی یہی ہے کہ وہ خصوصیات اور خوارق پیش کر کے اُن کی خدائی پر ایک دلیل قائم کرنا چاہتے ہیں۔ اسی وجہ سے جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں عیسائیوں نے حضرت عیسی کی خدائی پر یہ دلیل پیش کی کہ وہ بغیر باپ کے پیدا ہوئے ہیں تو فی الفور خدا تعالیٰ نے اس قسم کی پیدائش کی بلکہ اس سے بڑھ کر نظیر پیش کر دی ۔ اور فرمایا اِنَّ مَثَلَ عِيسَى عِنْدَ اللهِ كَمَثَلِ آدَمَ لے اور نظیر ایسی پیش کی جو عیسائیوں اور یہودیوں کے نزدیک مسلم اور بدیہیا تم اور بدیہیات اور معتقدات میں سے تھی اور یقیناً اس و فی اور یقیناً اس وقت عیسائیوں نے مسیح کی الوہیت کے لئے یہ حجت بھی پیش کی ہوگی کہ وہ زندہ آسمان پر موجود ہے لہذا اس کے رڈ میں خدا تعالیٰ کو خود مسیح کے اقرار کے حوالہ سے یہ کہنا پڑا فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ أَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ غرض قرآنی تعلیم یہ ہے کہ مسیح کے خوارق اور ذات اور صفات میں کوئی بھی خصوصیت نہیں ۔ ل ال عمران : ۶۰ - المآئدة: ۱۱۸ ہے۔ منه