حقیقة المہدی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 378 of 550

حقیقة المہدی — Page 378

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۳۷۸ ايام الصلح کی جوتی اور دوسروں کا سر ۔ اگرچہ خدا کسی مخلص صادق کو بغیر اجر کے نہیں رکھتا مگر اصحاب الصفه ما اصحاب الصفه - کیا ہی صاحب نصیب ہیں وہ لوگ جن کی نظر ہر صبح و مسا اس منظر اطہر پر پڑتی ہے۔ دولت صحبت کے برکات سے مالا مال ہوتے ہیں۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے انوار کا اطوار کا اخلاق کا عادات کا ریاضات کا مجاہدات کا محاربات کا کامل نمونہ آپ کی ذات میں مشاہدہ کرتے ہیں۔ خدائے قادر ذوالجلال کی جناب سے ہمیشہ یہی دُعا ہے کہ اے قدیر بے نظیر اپنے برگزیدہ مسیح علیہ الصلوۃ والسلام کی شرف ملازمت سے فخر وعزت دے۔ قسم بخدائے لایزال کہ تیرے در کی کنا سی تخت شاہی سے بہت بہتر ہے۔ شہزادہ صاحب نے مجھ پر سخت افترا باندھا ہے اور حضور کو مجھ سے بدگمان کیا ۔ اگر چہ بندگانِ عالی کو مجھ جیسے اَذَلّ کی پر واہ ہی کیا ہے خدا نے آپ کو وہ رفعت و منزلت بخشی ہے کہ آپ کی ذات مجمع البرکات کو مرجع قدوسیاں بنا دیا مگر اخفض جناحك للمؤمنين پر غور کر کے اور بالمؤمنین رؤف الرحیم پر نظر دوڑا کر اس گستاخی کی جرات ہوئی کہ تھوڑی دیر کے واسطے تضییع اوقات بندگانِ عالی کر کے عفو تقصیرات کا ملتجی ہو جاؤں اور دست بستہ عرض پرداز ہوں کہ ہر چند نیم لائق بخشایش تو برمن منگر بر کرم خویش نگر شہزادہ صاحب کی کتاب کے مضامین مختصراً و مجملاً جہاں تک کہ مجھ کو یاد ہیں ذیل میں ہیں وہ مسیح علیہ السلام کو آسمان پر نہیں سمجھتے بلکہ کہتے ہیں کہ اسی جہان میں خدا نے اُن کو چھپایا ۱۳۵ ہوا ہے۔ اور توفی کے معنے بھرنے کے کرتے ہیں یعنی خدا نے اُن کو بھر پا کر لوگوں سے کنارہ کر لیا ۔ مگر زندہ ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ دو حلیوں کا بیان جو احادیث میں ہے سو چونکہ یہ ایک رؤیا اور کشف ہے پس ممکن ہے کہ ایک ہی شخص کو انسان کئی مختلف صورتوں میں دیکھے ۔ ایک وقت ہم اپنے دوست کو خواب میں کسی صورت میں دیکھتے ہیں اور پھر اُسی