حقیقة المہدی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 12 of 550

حقیقة المہدی — Page 12

روحانی خزائن جلد ۱۴ اله نجم الهدى ينذر الغافلين ويصدم قلوبهم بوعيد كو اس دھمکی سے کوفتہ کرے کہ قطع تعلق کی مدى القطعية، وما تعلم ما الحمد كار دیں تیار ہیں ۔ اور تجھے کیا خبر ہے کہ حمد والتحميد، ولم اعلی مقامه الرب کہتے کس کو ہیں اور کیوں اس کا بلند پایہ ہے اور الوحيد۔ وكفى لك من عظمته أن اُس کی عظمت سمجھنے کے لئے تجھے یہ کافی ہے کہ خدا نے قرآن شریف کی تعلیم کو حمد سے ہی الله ابتدأ به كتابه الكريم، ليبين للناس عظمة الحمد ومقامه العظيم۔ شروع کیا ہے تا لوگوں کو حمد کے مقام کی بلندی سمجھاوے جو کسی دل میں سے بجز گدازش اور وأنه لا يفور من قلب إلا بعد المحوية محویت کے جوش نہیں مار سکتی ۔ اور اُسی وقت والذوبان، ولا يتحقق إلا بعد متحقق ہوتی ہے جب کہ مار نفس امارہ کچلا الانسلاخ ودوس أهواء النفس جائے اور نفسانی چولہ اتار لیا جائے اور یہ حمد کسی الثعبان، ولا يجرى على لسان إلا بعد زبان پر جاری نہیں ہوسکتی بجز اس کے کہ پہلے اضطرام نار المحبة في الجنان بل لا دل میں محبت کی آگ بھڑ کے ۔ بلکہ یہ وجود يتحقق إلا بعد زوال أثر الغير من بذیر ہی نہیں ہو سکتی جب تک کہ غیر کا نام ونشان الموهوم والموجود، ولا يتولّد بكلى زائل نہ ہو جائے اور پیدا نہیں ہو سکتی که نزد یک است کار و قطع تعلق پاره پاره شان سازد تو چه دانی حمد چیست و از چه روایں پائی بلندی وی را حاصل است بزرگی وی را از بینجا تواں دریافت کہ خدائے تعالیٰ تعلیم قرآن را آغاز از حمد کرد تا مردم بر مقام بلندش آگاه شوند و فواره حمد از دل احدی جوش نزند تا محویت و گدازش میسر نیاید و در وقتی سر بر زند و تحقق شود که ما رنفس اماره پامال و بکلی بدر آمدن از پوست انا نیست و نفسانیت دست دهد و این ستایش ابدا نمی شود بر زبانی روان شود تا وقتیکه زبانه محبت در دلی سر برنزند بل ممکن نیست صورت وجود پیپز یرد تا اسم و رسم غیر بالمره نا پید نشود و هرگز