حقیقة المہدی — Page 344
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۳۴۴ ايام الصلح ملا کی نبی کی اس پیشگوئی کے متعلق اختلاف واقع ہوا کہ جو ایلیا نبی کے دوبارہ آنے کے متعلق ۱۰۷ تھی تو باوجود اس کے کہ وہ معنے جو یہود کرتے تھے وہی آیت کے ظاہر معنے تھے اور حضرت عیسی کا یہ کہنا کہ ایلیا نبی کے دوبارہ آنے سے مراد اس کے کسی مثیل کا آنا ہے۔ یہ ایک تاویل رکیک بلکہ الحاد کے رنگ میں معلوم ہوتی تھی اور یہودیوں کی نظر میں ہنسی کے لائق تھی ۔ اور ایسا صرف عن الظاہر تھا جس پر کوئی قرینہ قائم نہ تھا مگر پھر بھی نیک بخت انسانوں نے جب دیکھا کہ یہ شخص موید من اللہ ہے اور اس پر وحی کے ذریعہ سے اصل حقیقت کھلی ہے تو انہوں نے ان ہی معنوں کو قبول کیا جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کرتے تھے اور یہود کے معنوں کورڈ کیا۔ اگر چہ ظاہر طور پر وہی صحیح معنے معلوم ہوتے تھے۔ پھر اسی قسم کا جھگڑا یہود کا ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوا۔ اور وہ یہ کہ یہود لوگ مثیل موسیٰ کی پیشگوئی کی نسبت جو توریت باب استثنا میں موجود ہے یہ معنے کرتے تھے کہ وہ بنی اسرائیل میں سے آئے گا۔ اور کہتے تھے کہ خدا نے داؤد سے قسم کھائی ہے کہ اُسی کے خاندان سے نبی بھیجتا رہے گا۔ مگر ہمارے سید و مولی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ معنے صحیح نہیں ہیں بلکہ صحیح یہ ہے کہ مثیل موسیٰ کا ظاہر ہونا بنی اسرائیل کے بھائیوں میں سے یعنی بنی اسماعیل سے ضروری تھا۔ سو اگرچہ یہود کے وہ معنے دو ہزار برس سے اُن کے علماء میں متفق علیہ چلے آئے تھے اور ایک جاہل آدمی کے لئے ایک قوی حجت تھی کہ جو معنے دو ہزار برس تک ایک گروہ کثیر علماء میں مسلّم الصحت اور ایک اجماعی عقیدہ کی طرح تھے اُن کے برخلاف کیونکر ایک نئے معنے مان لئے جائیں مگر پھر بھی جب عقلمندوں نے د نے دیکھا کہ مؤخر الذکر معنے اُس سے ننے اُس شخص نے کئے ہیں جو موید من اللہ ہے یعنی ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ نے۔ اور یہ بھی خیال کیا کہ انسانی عقل کے اجتہادی معنوں میں غلطی کا احتمال ممکن ہے مگر جن معنوں کی وحی نے تع تعلیم کی ہے اُن میں غلطی ممکن نہیں تو جناب نبی علیہ السلام کے معنوں کو قبول کیا۔ اور مخالفوں کے معنے گو وہ اپنے مذہب کے مولوی اور فاضل کہلاتے تھے رڈی کی طرح پھینک دیئے کیونکہ اُن کو یقین ہو گیا کہ یہ شخص مؤيد من الله اور صاحب خوارق ہے اور آسمانی تائیدیں اس کے شامل حال ہیں