حقیقة المہدی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 339 of 550

حقیقة المہدی — Page 339

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۳۳۹ ايام الصلح زندگی بسر نہ کریں اور دعا میں لگے رہیں۔ خدا سے اُس کا فضل مانگنا اور دُعا میں لگے رہنا اس سے بہتر اور کوئی طریق نہیں ۔ یہی ایک راہ ہے جو نہایت ضروری اور واجب طریق ہے ۔ اسی وجہ سے قرآن شریف میں عذاب سے بچنے کے لئے دعا ہی ہمیں سکھلائی گئی ہے اور وہ دعا سورۃ فاتحہ کی دعا ہے جو پنج وقت نماز میں پڑھی جاتی ہے یہ دونوں قسم کے عذابوں سے بچنے کے لئے دعا ہے۔ کیونکہ آخری فقرہ دعا کا یہ ہے کہ یا الہی اُن لوگوں کی راہ سے بچا جن میں طاعون پھوٹی تھی ۔“ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دعا اس لئے ہے کہ تاہم دنیا کے جہنم اور آخرت کے جہنم دونوں سے بچائے جائیں ۔ لہذا میں یقین رکھتا ہوں کہ اگر کوئی شخص یہ دعا یعنی سورہ فاتحہ دفع طاعون کے لئے ۱۰۲ اخلاص سے نماز میں پڑھتا ر ہے تو خدا اُس کو اس بلا سے اور اس کے بدنتائج سے بچائے گا۔ اور ہم اس وقت تمام مسلمانوں کو اس امر کی طرف توجہ دلاتے ہیں کہ اب وہ یقینی طور پر یہ نہ سمجھ لیں کہ طاعون دور ہو گئی اور اس خیال سے پھر غفلت اور گناہ اور معصیت کی طرف جھک نہ جائیں ۔ کیونکہ جیسا کہ ہم اپنے پہلے اشتہار میں شائع کر چکے ہیں ابھی ہم خطرات کے حدود سے باہر نہیں آئے جب تک دو جاڑے کے موسم خیر سے نہ گزر جائیں۔ اور اس ملک کے کسی حصہ میں کوئی واردات کا نمونہ پایا نہ جائے اس وقت تک اندیشہ دامنگیر ہے۔ سو اگر چہ طبابت کی تدبیریں نہایت عمدہ چیزیں ہیں اور جو کچھ ہماری گورنمنٹ نے ہدایتیں پیش کی ہیں وہ قابل شکر و نمخواری ہیں مگر تا ہم تمام فلاح اور نجات کا مدار انہی تدابیر کو نہ سمجھو اپنے خدائے رحیم و کریم سے بھی صلح کرو۔ دیکھو کس قدر ملک میں گناہ اور فریب اور جھوٹ اور ظلم اور حق تلفی اور بدکاری پھیل گئی ہے۔ یہ وہی معاصی ہیں جن کی وجہ سے پہلی تو میں بھی ہلاک ہوتی رہی ہیں۔ سو اس غیور خدا سے ڈرو جس کی غیرت ہمیشہ بدکاروں کو نابود کرتی رہی ہے۔ اگر خداوند ذوالجلال سے خوف کرو گے اور اپنے دلوں میں اُس کی عظمت بٹھا لو گے تو وہ تمہیں ضائع ہونے سے بچالے گا اور تم اور تمہاری اولاد بچ جائے گی اور خدا کا رحم