حقیقة المہدی — Page 337
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۳۳۷ ايام الصلح پابند ہو بلکہ توابین کے لفظ کو ساتھ ملا کر بیان فرمایا تا اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ خدا تعالیٰ کی اپنے بندوں کے لئے اکمل اور اتم محبت جس سے قیامت میں نجات ہوگی اسی سے 100 وابستہ ہے کہ انسان علاوہ ظاہری پاکیزگی کے خدا تعالیٰ کی طرف سچا رجوع کرے۔ لیکن محض ظاہری پاکیزگی کی رعایت رکھنے والا دنیا میں اس رعایت کا فائدہ صرف اس قدراٹھا سکتا ہے کہ بہت سے جسمانی امراض سے محفوظ رہے۔ اور اگر چہ وہ خدا تعالیٰ کی اعلیٰ درجہ کی محبت کا نتیجہ نہیں دیکھ سکتا مگر چونکہ اُس نے تھوڑا سا کام خدا تعالیٰ کی منشا کے موافق کیا ہے یعنی اپنے گھر اور بدن اور کپڑوں کو ناپاکیوں سے پاک رکھا ہے اس لئے اس قدر نتیجہ دیکھنا ضروری ہے کہ وہ بعض جسمانی بلاؤں سے بچالیا جائے بجز اس صورت کے کہ وہ کثرت گناہوں کی وجہ سے سزا کے لائق ٹھہر گیا ہو۔ کیونکہ اس صورت میں اس کے لئے یہ حالت بھی خدا تعالیٰ میسر نہیں کرے گا کہ وہ ظاہری پاکیزگی کو کما حقہ بجالا کر اس کے نتائج سے فائدہ اُٹھا سکے۔ غرض بموجب وعدہ الہی کے محبت کے لفظ میں سے ایک خفیف اور ادنی سے حصہ کا وارث وہ دشمن بھی اپنی دنیا کی زندگی میں ہو جاتا ہے جو ظاہری پاکیزگی کے لئے کوشش کرتا ہو۔ جیسا کہ تجربہ کے رُو سے یہ مشاہدہ بھی ہوتا ہے کہ جو لوگ اپنے گھروں کو خوب صاف رکھتے اور اپنی بدر روؤں کو گندہ نہیں ہونے دیتے اور اپنے کپڑوں کو دھوتے رہتے ہیں اور خلال کرتے اور مسواک کرتے اور بدن پاک رکھتے ہیں اور بدبو اور عفونت سے پر ہیز بز کرتے ہیں وہ اکثر خطرناک وبائی بیماریوں سے بچے رہتے ہیں پس گویا وہ اس طرح پر يُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ کے وعدہ سے فائدہ اٹھا لیتے ہیں۔ لیکن جو لوگ طہارت ظاہری کی پروانہیں رکھتے آخر کبھی نہ کبھی وہ بیچ میں پھنس جاتے ہیں اور خطر ناک بیماریاں اُن کو آپکڑتی ہیں۔ اگر قرآن کو غور سے پڑھو تو تمہیں معلوم ہوگا کہ خدا تعالیٰ کے بے انتہا رحم نے یہی چاہا ہے که انسان باطنی پاکیزگی اختیار کر کے رُوحانی عذاب سے نجات پاوے اور ظاہری پاکیزگی اختیار کر کے دنیا کے جہنم سے بچار ہے جو طرح طرح کی بیماریوں اور وباؤں کی شکل میں نمودار