حقیقة المہدی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 331 of 550

حقیقة المہدی — Page 331

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۳۳۱ ايام الصلح اور بایں ہمہ ان کا پیدا کرنا اور مٹانا اغراض مطلوبہ کے لئے خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ یہ نہیں کہہ سکتے کہ اگر مثلاً طاعون کا اصل علاج ادویہ اور تدابیر جسمانی پر موقوف ہے تو تو بہ اور اعمال صالحہ کو اس سے کیا تعلق ہے۔ اور اگر مدار تمام کام کا تو بہ اور اعمال صالحہ ہیں تو پھر ادویہ اور تدابیر بیہودہ ۹۴ ہیں کیونکہ تدبیر اور دعا میں کوئی منافات نہیں ہے۔ جو کچھ ہم تدبیر یا دوا کر سکتے ہیں اُس کی تمام شرائط تاثیر بھی ہم اپنے ہی اختیار سے پیدا نہیں کر سکتے وہ بھی دعا کی طرح اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہیں۔ یہ انسانی بیوقوفیاں ہیں جو ایک کو دوسرے کی ضد سمجھا جائے ۔ خدا تعالیٰ ہر ایک پہلو سے ہمارے لئے مبدء فیض ہے۔ اگر ہم نیکی کی راہیں اختیار کریں تو وہ ہمارے علم اور تدبیر کو خطا سے محفوظ رکھ کر اور تدابیر صائبہ کا ہمیں الہام فرما کر ہمیں بلا سے بچا سکتا ہے اور ہماری سرکشی اور شرارت کی حالت میں ہمارے ہی ہاتھ سے ہمیں ہلاک کر سکتا ہے۔ شریر اور خبیث طبع آدمی اس قدر آزادی پسند ہوتا ہے کہ چاہتا ہے کہ خدا سے بھی آزاد ہو جائے مگر ایسا ہونا اس کے لئے ممکن نہیں ۔ یہ سچ ہے کہ خدا تعالیٰ نے اپنے تمام کاموں کو ایک ایک نظام کے رنگ میں رکھا ہے۔ مگر پھر باوجود ان تمام نظامات کے ہر ایک چیز کی کل خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ اب ہم پھر اپنی پہلی تقریر کی طرف عود کر کے کہتے ہیں کہ لفظ رجز جو قرآن شریف میں طاعون کے معنوں پر آیا ہے وہ فتح کے ساتھ اُس بیماری کو بھی کہتے ہیں جو اونٹ کے بُنِ ران میں ہوتی ہے اور اس بیماری کی جڑ ایک کیڑا ہوتا ہے جو اونٹ کے گوشت اور خون میں پیدا ہوتا ہے ۔ سو اس لفظ کے اختیار کرنے سے یہ اشارہ بھی سمجھا جاتا ہے کہ طاعون کی بیماری کا بھی اصل سبب کیڑا ہے۔ چنانچہ ایک مقام میں صحیح مسلم میں اس امر کی کھلی کھلی تائید پائی جاتی ہے کیونکہ اس میں طاعون کا نام نَغَفْ رکھا ہے اور نَغَفْ لُغتِ عرب میں کیڑے کو کہتے ہیں جو اُس کیڑے سے مشابہ ہوتا ہے جو اونٹ کی ناک سے یا بکری کی ناک سے نکلتا ہے ۔ ایسا ہی کلام عرب میں رجز کا لفظ پلیدی کے معنوں پر بھی آتا ہے ۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے کہ طاعون کی اصل جڑ بھی پلیدی ہے۔ اس لئے بہ رعایت اسباب ظاہر ضرور ہے اور وہ ۔