حقیقة المہدی — Page 256
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۲۵۶ ایام اصلح ظہور میں آچکا تھا تو کیا ضرور نہ تھا کہ وہ خدا جس نے فرمایا تھا کہ إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ إِنَّا لَهُ لَحْفِظُون وہ ان بے جا حملوں کے فرو کرنے کے لئے چودھویں صدی کے سر پر اپنی قدیم سنت کے موافق کوئی آسمانی سلسلہ قائم کرتا ؟ پس اگر یہ سچ ہے کہ ہر ایک مجد دفتن موجودہ کے مناسب حال آنا چاہیے تو یہ دوسری بات بھی سچی ہے کہ چودھویں صدی کا مجدد گرفتن صلیبہ کے لئے آنا چاہیے تھا۔ کیونکہ یہی وہ فتن ہیں جن کے لاکھوں دلوں پر خطرناک اثر پڑے ہیں اور یہی وہ فتن ہیں جن کو اس زمانہ کے تمام فتنوں کی نسبت عظیم الشان کہنا چاہیے اور جبکہ ثابت ہوا کہ چودھویں صدی کے مجد د کا کام صلیبی صب فتنوں کا توڑنا اور اس کے حامیوں کے حملوں کا جواب دینا ہے تو اب طبعاً یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جس مجد د کا یہ کام ہو کہ وہ صلیبی فتنوں کو توڑے اور کسر صلیب کا منصب اپنے ہاتھ میں لے کر حقیقی نجات کی راہ دکھلاوے ۔ اور وہ نجات جو صلیب کی طرف منسوب کی گئی ہے اُس کا بطلان ثابت کرے ۔ اس مجد د کا کیا نام ہونا چاہیے؟ کیا یہ سچ نہیں کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے مجد د کا نام مسیح موعود رکھا ہے؟ پس جبکہ زمانہ کی حالت موجودہ ہی بتلا رہی ہے کہ چودھویں صدی کے مجد د کا نام مسیح موعود ہونا چاہیے یا بہ تبدیل الفاظ یوں کہو کہ ایسی صدی کا مسیح موعود ہی مجد د ہوگا جس میں فتنہ صلیبہ کا جوش وخروش ہو تو پھر کیوں انکار ہے ۔ بہر حال جب فتن صليبه اپنے کمال کو پہنچ گئے اور ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ کروڑ ہا کتا بیں صلیبی نجات کی تائید اور اسلام کی توہین اور ابطال میں شائع کی گئیں اور اس پر فتن صدی کے سر پر ایک شخص کھڑا ہوا اور اُس نے دعوی کیا کہ ان فتنوں کی اصلاح نوٹ: ہم کئی دفعہ لکھ چکے ہیں کہ چودھویں صدی کا مجدد جو مسیح موعود ہے اس کا منصب یہ نہیں ہے کہ سختیوں اور ہنگامہ پردازیوں سے کام لے بلکہ اس کا کام یہ ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کے حلم اور خُو کے موافق بردباری اور نرمی سے اتمام حجت کرے اور امن کے ساتھ حق کو پھیلا دے۔ منہ ا الحجر: ١٠