حقیقة المہدی — Page 238
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۲۳۸ ايام الصلح اُن کی آفات کا خاتمہ بڑی خوشحالی کے ساتھ ہوتا ہے۔ لیکن اگر اطمینان اور سچ سچی خوشحالی حاصل نہیں ہوئی تو ہماری کامیابی بھی ہمارے لئے ایک دُکھ ہے۔ سو یہ اطمینان اور روح کی سچی خوشحالی تدابیر سے ہرگز نہیں ملتی بلکہ محض دعا سے ملتی ہے۔ مگر جو لوگ خاتمہ پر نظر نہیں رکھتے وہ ایک ظاہری مر ادیابی یا نا مرادی کو دیکھ کر مدار فیصلہ اسی کو ٹھہرا دیتے ہیں اور اصل بات یہ ہے کہ خاتمہ بالخیر ان ہی کا ہوتا ہے جو خدا سے ڈرتے اور دُعا میں مشغول ہوتے ہیں اور وہی بذریعہ حقیقی اور مبارک خوشحالی کے سچی مراد یابی کی دولت عظمی پاتے ہیں ۔ یہ بڑی بے انصافی اور سخت تاریکی کے نیچے دبا ہوا خیال ہے کہ اس فیض سے انکار کیا جائے جو محض دُعا کی نالی کے ذریعہ سے آتا ہے اور ان پاک نبیوں کی تعلیم کو بنظرِ استخفاف دیکھا جائے جس کا عملی طور پر نمونہ اُن ہی کے زمانہ میں کھل گیا ہے۔ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ اُن مقدسوں کی بد دعا سے ہمیشہ وہ سرکش اور نا فرمان ذلیل اور ہلاک ہوتے رہے ہیں جنہوں نے اُن کا مقابلہ کیا۔ حضرت نوح علیہ السلام کی بددعا کا اثر دیکھو جس کے جوش سے پہاڑ بھی پانی کے نیچے آ گئے تھے اور کروڑ ہا انسان ایک دم میں دارالفنا میں پہنچ گئے ۔ پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بد دعا پر غور کرو جس نے فرعون کو اُس کے تمام لشکروں کے ساتھ ہلاک کیا۔ پھر حضرت عیسی علیہ السلام کی بد دعا کی قوت اور اثر کو سوچو جس کے ذریعہ سے یہودیوں کا استیصال رومی سلطنت کے ہاتھ سے ہوا۔ پھر ہمارے سید و مولی کی بددعا میں ذرہ فکر کرو کہ کیونکر اس بد دعا کے بعد شریر ظالموں کا انجام ہوا۔ اب کیا یہ تسلی بخش ثبوت نہیں ہے کہ قدیم سے خدا تعالیٰ کا ایک روحانی قانون قدرت ہے کہ دعا پر حضرت احدیت کی توجہ جوش مارتی ہے اور سکینت اور اطمینان اور حقیقی خوشحالی ملتی ہے اگر ہم ایک مقصد کی طلب میں غلطی پر نہ ہوں تو پر نہ ہوں تو وہی مقصد مل جاتا ہے اور اگر ہم اس خطا کار بچہ کی طرح جو اپنی ماں سے سانپ یا آگ کا ٹکڑہ مانگتا ہے اپنی دُعا اور سوال میں غلطی پر ہوں تو خدا تعالیٰ وہ چیز جو ہمارے لئے بہتر ہو عطا کرتا ہے۔ اور با ایں ہمہ دونوں صورتوں میں ہمارے ایمان کو بھی ترقی دیتا ہے کیونکہ ہم دُعا کے ذریعہ سے پیش از وقت خدا تعالیٰ سے علم پاتے ہیں اور ایسا یقین بڑھتا ہے کہ گویا