حقیقة المہدی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 190 of 550

حقیقة المہدی — Page 190

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۱۹۰ كشف الغطاء لکھی ہے۔ لکھی ۔ اب خلاصہ کلام یہ کہ میری تعلیم یہی ہے جو اس جگہ میں نے نمونہ کے طور پر لکھ اور میری جماعت وہ گروہ معزز اور غریب طبع اور نیک چلن انسانوں کا ہے کہ میں ہرگز گمان نہیں کر سکتا کہ گورنمنٹ ان کی نسبت یہ رائے ظاہر کرے کہ یہ لوگ اپنے چال چلن اور رویہ کے لحاظ سے خطر ناک یا مشتبہ ہیں۔ یہ میرے سلسلہ کی خوش قسمتی ہے کہ وحشی اور نادانوں اور بد چلنوں نے میری طرف رجوع نہیں کیا بلکہ شریف اور معزز اور تعلیم یافتہ اور دیسی افسر اور اچھے اچھے عہدوں کے سرکاری ملازموں سے میری جماعت پر ہے۔ اور تنگ خیالات کے متعصب اور جاہل مسلمان جو وحشی اور نفسانی جذبات کے نیچے دبے ہوئے اور تاریک خیال ہیں وہ اس جماعت سے کچھ تعلق نہیں رکھتے بلکہ بخل اور عناد کی نظر سے دیکھتے ہیں اور دل آزاری کے منصوبوں میں مشغول ہیں اور کافر کافر کہتے ہیں ۔ بقیه حاشیه یہ پاک سلسلہ اس گورنمنٹ کے ماتحت برپا کیا ہے۔ وہ لوگ میرے نزدیک سخت نمک حرام ہیں جو حکام انگریزی کے روبروئے ان کی خوشامدیں کرتے ہیں اُن کے آگے گرتے ہیں اور پھر گھر میں آ کر کہتے ہیں کہ جو شخص اس گورنمنٹ کا شکر کرتا ہے وہ کافر ہے۔ یاد رکھو اور خوب یا درکھو کہ ہماری یہ کارروائی جو اس گورنمنٹ کی نسبت کی جاتی ہے منافقانہ نہیں ہے ولعنة الله على المنافقين بلکہ ہمارا یہی عقیدہ ہے جو ہمارے دل میں ہے۔ علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ مع تہذیب الاخلاق ۲۴ جولائی ۱۸۹۷ء یہ مضمون خیر خواہی گورنمنٹ انگریزی میں نے اُس وقت شائع کیا تھا جن دنوں میں مولوی محمد حسین بٹالوی اور دوسرے لوگوں نے سلطان روم کی تعریف میں مضمون لکھے تھے اور بوجہ خیر خواہی اس گورنمنٹ کے مجھ کو کافر ٹھہرایا تھا۔ سید احمد خان صاحب خوب جانتے تھے کہ کس قدر میں انگریزی گورنمنٹ کا خیر خواہ اور امن پسند انسان ہوں اسی لئے میں نے ڈاکٹر کلارک کے مقدمہ میں سید صاحب کو اپنی صفائی کا گواہ لکھوایا تھا۔ منہ ۔