حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 69 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 69

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۶۹ حقيقة الوحى کے غیب ہیں وہ خدا تعالی کے خاص بندوں سے مخصوص ہیں ۔ وہ لوگ عام لوگوں کی خوابوں اور الہاموں سے چار طور کا امتیاز رکھتے ہیں۔ ایک یہ کہ اکثر اُن کے مکاشفات نہایت صاف ہوتے ہیں اور شاذ و نا در مشتبہ ہوتا ہے مگر دوسرے لوگوں کے مکاشفات اکثر مکدر اور مشتبہ ہوتے ہیں اور شاذ و نادر کوئی صاف ہوتا ہے۔ دوسرے یہ کہ وہ عام لوگوں کی نسبت اس قدر کثیر الوقوع ہوتے ہیں کہ اگر مقابلہ کیا جائے تو وہ مقابلہ ایسا فرق رکھتا ہے جیسا کہ ایک بادشاہ اور ایک گدا کے مال کا مقابلہ کیا جائے۔ تیسرے اُن سے ایسے عظیم الشان نشان ظاہر ہوتے ہیں کہ کوئی دوسرا شخص اُن کی نظیر پیش نہیں کر سکتا۔ چوتھے اُن کے نشانوں میں قبولیت کے نمونے اور علامتیں پائی جاتی ہیں اور محبوب حقیقی کی محبت اور نصرت کے آثار اُن میں نمودار ہوتے ہیں اور صریح دکھائی دیتا ہے کہ وہ ان نشانوں کے ذریعہ سے اُن مقبولوں کی عزت اور قربت کو دنیا پر ظاہر کرنا چاہتا ہے اور اُن کی وجاہت دلوں میں بٹھانا چاہتا ہے مگر جن کا خدا سے کامل تعلق نہیں اُن میں یہ بات پائی نہیں جاتی بلکہ ان کی بعض خوابوں یا الہاموں ﴿۲۷﴾ کی سچائی اُن کے لئے ایک بلا ہوتی ہے کیونکہ اس سے ان کے دلوں میں تکبر پیدا ہوتا ہے اور تکبر سے وہ مرتے ہیں اور اُس جڑھ سے مخالفت پیدا کرتے ہیں جو شاخ کی سرسبزی کا موجب ہوتی ہے۔ اے شاخ یہ مانا کہ تو سر سبز ہے اور یہ بھی قبول کیا کہ تجھے پھول اور پھل آتے ہیں مگر جڑھ سے الگ مت ہو کہ اس سے تو خشک ہو جائے گی اور تمام برکتوں سے محروم کی جائے گی کیونکہ تو جزو ہے کل نہیں ہے اور جو کچھ تجھ میں ہے وہ تیرا نہیں بلکہ وہ سب جڑھ کا فیضان ہے یہ نکتہ بھی یاد رکھنے کے لائق ہے کہ جب آسمان سے مقرر ہو کر ایک نبی یا رسول آتا ہے تو اُس نبی کی برکت سے عام طور پر ایک نور حسب مراتب استعدادات آسمان سے نازل ہوتا ہے اور انتشار روحانیت ظہور میں آتا ہے تب ہر ایک شخص خوابوں کے دیکھنے میں ترقی کرتا ہے اور الہام کی استعداد رکھنے والے الہام پاتے ہیں اور روحانی امور میں عقلیں بھی تیز ہو جاتی ہیں کیونکہ جیسا کہ جب بارش ہوتی ہے ہر ایک زمین کچھ نہ کچھ اس سے حصہ لیتی ہے ایسا ہی اُس وقت ہوتا ہے جب رسول کے بھیجنے سے بہار کا زمانہ آتا ہے تب اُن ساری برکتوں کا موجب دراصل وہ رسول ہوتا ہے اور جس قدر لوگوں کو خوا ہیں یا الہام ہوتے ہیں دراصل اُن کے کھلنے کا دروازہ وہ رسول ہی ہوتا ہے کیونکہ اس کے ساتھ دنیا میں ایک تبدیلی واقع ہوتی ہے اور آسمان سے عام طور پر ایک روشنی اترتی ہے جس سے ہر ایک شخص حسب استعداد حصہ لیتا ہے وہی روشنی خواب اور الہام کا موجب ہو جاتی ہے اور نادان خیال کرتا ہے کہ میرے ہنر سے ایسا ہوا ہے مگر وہ چشمہ الہام اور خواب کا صرف اس نبی کی برکت سے دنیا پر کھولا جاتا ہے اور اُس کا زمانہ ایک لیلۃ القدر کا زمانہ ہوتا ہے جس میں ہے فرشتے اُترتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تَنَزَّلُ الْمَلَئِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِمْ مِنْ كُلِّ اَمْرٍ سَلم جب سے خدا نے دنیا پیدا کی ہے یہی قانون قدرت ہے۔ منہ خدا نے دنیا ہے یہی القدر : ۲۰۵