حقیقةُ الوحی — Page 55
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۵۵ حقيقة الوحى میں اس حد تک کوشش کرے کہ اُس کی اطاعت میں کوئی کسر باقی نہ رہے۔ یہ بہت تنگ دروازہ ہے اور یہ شربت بہت ہی تلخ شربت ہے۔ تھوڑے لوگ ہیں جو اس دروازہ میں سے داخل ہوتے اور اس شربت کو پیتے ہیں۔ زنا سے بچنا کوئی بڑی بات نہیں اور کسی کو ناحق قتل نہ کرنا بڑا کام نہیں اور جھوٹی گواہی نہ دینا کوئی بڑا ہنر نہیں مگر ہر ایک چیز پر خدا کو اختیار کر لینا اور اس کے لئے سچی محبت اور سچے جوش سے دنیا کی تمام تلخیوں کو اختیار کرنا بلکہ اپنے ہاتھ سے تلخیاں پیدا کر لینا یہ وہ مرتبہ ہے کہ بجز صدیقوں کے کسی کو حاصل نہیں ہو سکتا۔ یہی وہ عبادت ہے جس کے ادا کرنے کے لئے انسان مامور ہے اور جو شخص یہ عبادت بجالاتا ہے تب تو اُس کے اس فعل پر خدا کی طرف سے بھی ایک فعل مترتب ہوتا ہے جس کا نام انعام ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے یعنی یہ دعا سکھلاتا ہے اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ ۔ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ یعنی اے ہمارے خدا ہمیں اپنی سیدھی راہ دکھلا اُن لوگوں کی راہ جن پر تو نے انعام کیا ہے اور اپنی خاص عنایات سے مخصوص فرمایا ہے۔ حضرت احدیت میں یہ قاعدہ ہے کہ جب خدمت مقبول ہو جاتی ہے تو اُس پر ضرور کوئی انعام مترتب ہوتا ہے چنانچہ خوارق اور نشان جن کی دوسرے لوگ نظیر پیش نہیں کر سکتے یہ بھی خدا تعالیٰ کے انعام ہیں جو خاص بندوں پر ہوتے ہیں۔ اے گرفتار ہوا در ہمہ اوقات حيوة با چنین نفس سیہ چوں رسدت زوعو نے گر تو آن صدق بورزی که بورزید کلیم عجبی نیست اگر غرق شود فرعونے اب خلاصہ اس تمام کلام کا یہ ہے کہ کسی کو بجز درجہ ثالثہ کے پاک اور مطہر وحی کا انعام نہیں مل سکتا اور اس انعام کو پانے والے وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنی ہستی سے مر جاتے ہیں اور خدا تعالیٰ سے ایک نئی زندگی پاتے ہیں اور اپنے نفس کے تمام تعلقات توڑ کر خدا تعالیٰ سے کامل تعلق پیدا کر لیتے ہیں ۔ تب اُن کا وجود مظہر تجلیات الٰہیہ ہو جاتا ہے اور خدا اُن سے محبت کرتا ہے اور وہ ہزار اپنے تئیں پوشیدہ کریں مگر خدا تعالیٰ اُن کو ظاہر کرنا چاہتا ہے اور وہ نشان اُن سے ظاہر ہوتے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ ان سے محبت کرتا ہے۔ الفاتحة : ٧،٦ ۵۳﴾