حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 47 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 47

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۴۷ حقيقة الوحى خاندان یعنی ابراہیم کی اولاد میں سے پیدا ہوں گے اور انہیں میں سے اور انہیں کے بھائیوں میں سے اُن کا ظہور ہوگا اور تمام نبیوں نے جو بنی اسرائیل میں آتے رہے اس پیشگوئی کے یہی معنے سمجھے تھے کہ وہ آخر الزمان کا نبی بنی اسرائیل میں سے پیدا ہو گا مگر آخر وہ نبی بنی اسمعیل میں سے پیدا ہو گیا اور یہ امر یہودیوں کے لئے سخت ٹھوکر کا باعث ہوا اگر توریت میں صریح طور پر یہ الفاظ ہوتے کہ وہ نبی بنی اسمعیل میں سے آئے گا اور اُس کا مولد مکہ ہوگا اور اُس کا نام مُحَمَّد ہو گا صلی اللہ علیہ وسلم اور اُس کے باپ کا نام عبداللہ ہوگا تو یہ فتنہ یہودیوں میں ہرگز نہ ہوتا ۔ پس جب کہ اس امر کے لئے دو مثالیں موجود ہیں کہ ایسی پیشگوئیوں میں خدا تعالیٰ کو اپنے بندوں کا کچھ ابتلا بھی منظور ہوتا ہے تو پھر تعجب کہ کس طرح ہمارے مخالف با وجود بہت ☆ ہے سے اختلافات کے جو مسیح موعود کے بارے میں ہر ایک فرقہ کی حدیثوں میں پائے جاتے ہیں ﴿۲۵﴾ اور بالاتفاق اس کو اُمتی بھی قرار دیا گیا ہے اس بات پر مطمئن ہیں کہ ضرور مسیح آسمان سے ہی نازل ہوگا حالانکہ آسمان سے نازل ہونا خود غیر مع ا خود غیر معقول اور خلاف نصر نص قرآن کے ۔ خدا تعالی فرماتا ہے قُلْ سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنْتُ إِلَّا بَشَرً ا رَسُولًا به پس اگر بشر کے جسم عنصری کا آسمان پر چڑھانا عادت اللہ میں داخل تھا تو اس جگہ کفار قریش کو کیوں انکار کے ساتھ جواب دیا گیا کیا ۔ عیسی بشر نہیں تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بشر ہیں اور کیا خدا تعالیٰ کو حضرت عیسی کو آسمان پر چڑھانے کے وقت وہ وعدہ یاد نہ رہا کہ آلم نَجْعَلِ الْأَرْضَ كِفَاتًا أَحْيَاءً وَأَمْوَاتًا و أَمْوَانا مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے آسمان پر چڑھنے چڑا کا جب سوال کیا گیا تو وہ وعدہ یاد آ گیا۔ اور جس کو علم کتاب اللہ ہے وہ خوب جانتا ہے کہ قرآن شریف نے اپنے قول سے حضرت عیسی کی وفات کی گواہی دے دی ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے فعل سے یعنی اپنی رؤیت کے ساتھ اِسی شہادت کو ادا کر دیا کسی حدیث صحیح مرفوع متصل سے ثابت نہیں کہ عیسیٰ آسمان سے نازل ہوگا ر ہا نزول کا لفظ سو وہ اکرام اور اعزاز کے لئے آتا ہے جیسا کہ کہتے ہیں کہ فلاں لشکر فلاں جگہ اُتر ا ہے اسی لئے نزیل مسافر کو کہتے ہیں پس صرف نزول کے لفظ سے آسمان سمجھ لینا پرلے درجہ کی نا سمجھی ہے۔ منہ ا بنی اسرائیل: ۹۴ المرسلات : ۲۷،۲۶