حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 37 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 37

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۳۷ حقيقة الوحى ماسوا اس کے ایسا خیال کہ تمام یہودی حضرت عیسی پر ایمان لے آئیں گے اس طور سے بھی ۳۵ بیہودہ اور خلاف عقل ہے کہ یہ اعتقاد واقعات کے برخلاف ہے کیونکہ حضرت عیسی کے زمانہ کو قریباً دو ہزار برس گزرتا ہے اور کسی پر یہ امر پوشیدہ نہیں کہ اس عرصہ میں کروڑہا یہودی حضرت عیسی سے منکر اور اُن کو گالیاں دینے والے اور کافر ٹھہرانے والے دنیا سے گذر گئے ہیں۔ پھر یہ قول کیوں کر صحیح ہو سکتا ہے کہ ہر ایک یہودی ان پر ایمان لے آئے گا۔ اس دو ہزار برس کی ذرا میزان تو لگاؤ کہ کس قدر یہودی بے ایمانی کی حالت میں مر گئے کیا اُن کی نسبت رضی اللہ عنہم کہہ سکتے ہیں۔ غرض تمام صحابہ کا اجماع حضرت عیسیٰ کی موت پر تھا بلکہ تمام انبیاء کی موت پر اجماع ہو گیا تھا اور یہی پہلا اجماع تھا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ہوا۔ اسی اجماع کی وجہ سے تمام صحابہ حضرت عیسیٰ کی موت کے قائل تھے اور اسی وجہ سے حسان بن ثابت نے مذکورہ بالا مرثیہ بنایا تھا جس کا ترجمہ جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں یہ ہے کہ اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تو تو میری آنکھوں کی پتلی تھا میں تو تیرے مرنے سے اندھا ہو گیا اب تیرے بعد جو شخص چاہے مرے عیسی ہو یا موسییٰ مجھے تو تیرے ہی مرنے کا خوف تھا اور در حقیقت صحابہ رضی اللہ عنہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق تھے اور ان کو کسی طرح یہ بات گوارا ب تھی کہ عیسیٰ جس کا وجود شرک عظیم کی جڑ قرار دیا گیا ہے زندہ ہو اور آپ فوت ہو جائیں۔ پس اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت اُن کو یہ معلوم ہوتا کہ حضرت عیسی آسمان پر مع جسم عنصری زندہ بیٹھے ہیں اور اُن کا برگزیدہ نبی فوت ہو گیا تو وہ مارے غم کے مر جاتے کیونکہ ان کو ہرگز اس بات کی برداشت نہ تھی کہ کوئی اور نبی زندہ ہو اور اُن کا پیارا نبی قبر میں داخل ہو جائے ۔ اللهم صل علی محمد و آله واصحابه اجمعين۔ اور خدا تعالیٰ کے اس کلام سے کہ بَلْ رَفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ - یہ معنی نکالنا کہ حضرت عیسی مع جسم عنصری دوسرے آسمان پر حضرت یحیی کے پاس جا بیٹھے کس قدر نا فہمی اور نادانی ہے۔ کیا خدائے عز و جل دوسرے آسمان پر بیٹھا ہوا ہے اور کیا قرآن میں رفع الی اللہ کے النساء : ۱۵۹