حقیقةُ الوحی — Page 599
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۵۹۹ تتمه حقيقة الوحى مرد میدان باش و حال ما ہیں نصرت آن ذو الجلال ما ببین طعنہ ہا بے امتحان نامردی است امتحان کن پس مال ما ببین اے عزیز عباد الرحمن کی نسبت جلدی سے بدظنی کرنا جائز نہیں۔ جن لوگوں نے پہلے برگزیدوں کی نسبت بدظنیاں کیں اُنہوں نے کیا پھل پایا۔ اور یہ خیال بھی اپنے دلوں میں سے نکال دو کہ جب تک وہ تمام علامتیں مسیح موعود اور مہدی معہود کی ( جو صرف ظنی روایات کی بناء پر تمہارے دلوں میں ہیں ) پوری نہ ہو لیں تب تک قبول کرنا ہرگز روا نہیں۔ یہ قول ان یہودیوں کے قول سے مشابہ ہے جنہوں نے نہ حضرت عیسیٰ کو قبول کیا اور نہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کیونکہ جو کچھ اپنی روایتوں کی بناء پر نشانیاں قرار دی تھیں وہ سب پوری نہ ہوئیں۔ پس کیا تم گمان کرتے ہو کہ وہ تمہاری قرار دادہ علامتیں پوری ہو جائیں گی۔ نہیں بلکہ ایسی پیشگوئیوں میں ایک امتحان بھی مخفی ہوتا ہے اور خدا تمہیں آزماتا ہے کہ تم اُسکے نشانوں کو عزت کی نگہ سے دیکھتے ہو یا نہیں۔ تمام روایات کب سچی ہو سکتی ہیں بہت سی جھوٹی باتیں مل جاتی ہیں اُن پر پورا تکیہ کرنا خطرناک امر ہے۔ یہ تو بتلاؤ کہ کسی نبی کی نسبت مقرر کردہ علامات پوری ہو گئیں جو پہلی قوم نے مقرر بقیه حاشیه : کتاب بجلی آسمانی کے صفحہ ۱۰۷ میں یہ چند شعر لکھتے ہیں۔ مرزا مو یا خوشیوں مینوں راتیں نیند نہ آئی مرزا گذر گیا۔ مرزا مو یا بے شک جانو میں ہن نصرت پائی مرزا گذر گیا یعنی بے شک مرزا مر جاوے گا اور مجھے فتح ہوگی اور پھر صفحہ ۱۰۷ کے شعر میں لکھتا ہے کہ طاعون کے پھیلنے کی خبر مرزا نے دی تھی وہ بھی ظہور میں نہ آئی مگر مولوی صاحب کو معلوم نہ تھا کہ خود طاعون سے مریں گے۔ قدرت الہی ہے کہ انہیں پر بجلی آسمانی گری۔ منہ ۲۰۵ ہم ان نشانوں کو دو سو پانچ پر ختم کر چکے تھے کہ ایک اور رسالہ ہمیں دستیاب ہوا جس نے ان نشانوں کو دو سو چھ تک پہنچا دیا۔ اس رسالہ کا نام ڈر محمدی ہے اور مصنف کا نام امداد علی ہے۔ اس شخص نے اپنی کتاب کے صفحہ سات میں میری نسبت شعر لکھا ہے۔ اللہ جیسے پیغمبر تائیں جلد بجلد سمہا لے جس کا ذب نے دنیا اندر بہتیرے چلے چالے یعنی اس شخص کو خدا جلدی موت دے۔ پھر صفحہ ۸ میں میری نسبت لعنة الله علی الکاذبین لکھتا ہے اور دوسرا حصہ کتاب کے بنانے کا وعدہ کرتا ہے اور ابھی دوسرے حصہ کی نوبت نہیں آئی کہ طاعون میں پکڑا گیا اور اپنا گوشت اپنے دانتوں سے کاٹتا تھا۔ آخر اسی حالت میں مر گیا۔ یہ ہیں مولوی صاحبان جو مجھے جھوٹا ٹھہراتے ہیں۔ فاعتبروا یا اولی الابصار - منه