حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 592 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 592

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۵۹۲ تتمه حقيقة الوحى دونوں مدت تک میرے پاس آتے رہے ہیں اور بہت سے نشان آسمانی ہیں جو انہوں نے بچشم خود دیکھے ہیں وہ میرے اُن تمام نشانوں کے گواہ ہیں جن کے وجود سے شبھ چٹک کے ایڈیٹرو منتظم قطعی انکاری ہو کر مجھ کو مکار اور مفتری قرار دیتے ہیں۔ اگر میں ایسا ہی کا ذب اور مکار ہوں تو یہ دونوں قسم کھا جائیں کہ ہم نے یہ نشان نہیں دیکھے ۔ سو آج تک اُنہوں نے قسم نہیں کھائی مگر ان تینوں کے بارے میں یعنی سوم راج اور اچھر چند اور بھگت رام کی نسبت جو کچھ مجھے خدا سے معلوم ہوا میں نے اس رسالہ میں لکھ دیا چنانچہ منجملہ ان کے ایک دعا ہے جو اسی رسالہ کے ٹائٹل ۱۵۴ پیچ کے صفحہ دوسرے میں لکھی گئی اور وہ شعر یہ ہیں: ہے موت لیکھو بڑی کرامت ہے پر سمجھتے نہیں یہ شامت میرے مالک تو ان کو خود سمجھا آسماں سے پھر اک نشان دکھلا اس شعر کا خلاصہ مطلب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ سے چاہا گیا ہے کہ لیکھرام کی موت کی طرح خدا قادیان کے آریوں پر عذاب کے طور پر کوئی نشان ظاہر کرے۔ پھر اسی رسالہ کے صفحہ ۲۱ ۲۲ میں میں نے یہ پیشگوئی ان لوگوں کے حق میں کی کہ یہ لوگ ان نبیوں کی تکذیب میں جن کی سچائی سورج کی طرح چمکتی ہے حد سے بڑھ گئے ہیں۔ خدا جو اپنے بندوں کے لئے غیرت مند ہے ضرور اس کا فیصلہ کرے گا۔ وہ ضرور اپنے پیارے نبیوں کے لئے کوئی ہاتھ دکھلائے گا ۔۔۔ خدا ان کا اور ہمارا فیصلہ کرے اور پھر اسی کتاب کے صفحہ ۵۳ سے ۵۴ تک پیشگوئی کے طور پر اخبار شبھ چک کے ایڈیٹر وغیرہ کی نسبت یہ شعر ہیں: کہنے کو وید والے پر دل ہیں سب کے کالے پردہ اُٹھا کے دیکھو ان میں بھرا یہی ہے فطرت کے ہیں درندے مردار ہیں نہ زندے ہر دم زباں کے گندے قہر خدا یہی ہے دین خدا کے آگے کچھ بن نہ آئی آخر سب گالیوں پر اُترے دل میں اُٹھا یہی ہے شرم و حیا نہیں ہے آنکھوں میں اُن کے ہرگز وہ بڑھ چکے ہیں حد سے اب انتہا یہی ہے ہم نے ہے جس کو مانا قادر ہے وہ توانا ہے اُس نے ہے کچھ دکھانا اُس سے رجا یہی ہے ☆ منشی اللہ دتا سابق پوسٹ ماسٹر قا دیان حال کلرک ڈاکخانہ امرتسر ہیڈ آفس بنام شیخ یعقوب علی ایڈیٹر اخبار الحکم مندرجہ ذیل خط