حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 585 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 585

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۵۸۵ تتمه حقيقة الوحى گویا میں نے دعوی مسیح موعود کر کے خدا پر افترا کیا ہے تو میں ہلاک ہو جاؤں گا) اور اگر خدا تعالیٰ ۱۳۷ کے علم میں کوئی ایسا امر ہے جو اس بدظنی کے برخلاف ہے تو وہ امر روشن ہو جائے گا (یعنی اگر خدا تعالیٰ کے علم میں در حقیقت میں مسیح موعود ہوں تو خدا تعالیٰ میرے لئے کوئی گواہی دے گا ) اور میں وعدہ کرتا ہوں کہ نعوذ باللہ میری طرف سے نہ کوئی آپ پر نالش ہو گی اور نہ کوئی کسی قسم کا بے جا حملہ آپ کی وجاہت وشان پر ہوگا۔ صرف خدا تعالیٰ سے عقدہ کشائی چاہوں گا (یعنی یہ چاہوں گا کہ اگر میں مفتری نہیں ہوں ! ہوں اور میرے پر یہ جھوٹا اور ظالمانہ حملہ ہے تو میری بریت۔ بابو صاحب کی تکذیب کے لئے خدا آپ کوئی امر نازل کرے کیونکہ بریت کی خواہش کرنا سنت انبیاء ہے جیسا کہ حضرت یوسف نے خواہش کی ۔ اور صادق کو بری کر دینا خدا کی قدیم سنت ہے۔ ☆ یہ وہ میرا خط ہے جو بابو صاحب کی کتاب عصائے موسیٰ کے صفحہ ۵ اور ۶ وے میں درج ہے۔ اب ظاہر ہے کہ اس خط میں بھی میں نے خدا تعالیٰ سے فیصلہ چاہا تھا پھر بعد اس کے جو فیصلہ خدا تعالیٰ نے کیا وہ ظاہر ہے کہ ایک طرف خدا تعالیٰ نے ہر ایک پہلو سے مجھے ترقی دی اور دوسری طرف با بو الہی بخش صاحب کو عین ناکامی کی حالت میں دنیا سے اُٹھا لیا اور وہ صدہا حسرتوں کے ساتھ بمرض طاعون گزر گئے ۔ کیا اُس کا دل چاہتا تھا کہ وہ طاعون سے مر جائیں اور پھر میری زندگی میں مگر خدا نے ایسا کیا۔ دوسرا امر منصفین کے لئے غور کے لائق یہ ہے کہ بابوا الہی بخش صاحب نے میرے مقابل پر جو ذخیرہ ایک برس کے الہامات کا اُن کے پاس تھا سب اپنی کتاب عصائے موسیٰ میں شائع کر دیا جن کا خلاصہ یہی ہے کہ گویا میں نامراد اور نا کام رہ کر انجام کار بابو صاحب کی زندگی میں ہی طاعون کے ساتھ ہلاک ہو جاؤں گا اور بڑی بڑی تباہیاں میرے پر آئیں گی اور ملاعنہ اور مباہلہ کا بداثر میرے پر پڑ کر مجھ کو ہلاک کر دے گا بر خلاف اس کے بابو صاحب کی بڑی بڑی ترقی ہوگی آج سے چھبیس برس پہلے میری کتاب براہین احمدیہ میں یہ الہام شائع ہو چکا ہے میری نسبت خدا تعالیٰ اشارہ کر کے فرماتا ہے کہ جیسے پہلے موسیٰ پر جھوٹے الزام لگائے گئے تھے اس موسیٰ پر بھی یعنی اس عاجز پر بھی جھوٹے الزام لگائے جاویں گے مگر خدا اس کو بری کرے گا الہام کی عبارت یہ ہے۔ فبرأه الله مـمـا قـالـوا و كان عند الله و جیھا۔کیا بابو صاحب کی وفات سے یہ پیشگوئی پوری نہیں ہوئی ۔ منہ ☆