حقیقةُ الوحی — Page 35
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۳۵ حقيقة الوحى جمع کیا اور اتفاق حسنہ سے اُس دن کل صحابہ رضی اللہ عنہم مدینہ میں موجود تھے تب ۳۳ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ منبر پر چڑھے اور فرمایا کہ میں نے سنا ہے کہ بعض ہمارے دوست ایسا ایسا خیال کرتے ہیں مگر سچ بات یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے ہیں اور ہمارے لئے یہ کوئی خاص حادث نہیں ہے۔ اس سے پہلے کوئی نبی نہیں گذرا جو فوت نہیں ہوا۔ پھر حضرت ابوبکر نے یہ آیت پڑھی مَا مُحَمَّدُ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرسل کے یعنی آنحضرت ضرت صلی اللہ علیہ وسلم صرف انسان رسول تھے خدا تو نہیں تھے ہیں۔ جیسے پہلے اس سے سب رسول فوت ہو چکے ہیں آپ بھی فوت ہو گئے ۔ ☆ سو تب اس آیت کو سن کر تمام صحا بہ چشم پر آب ہو گئے اور إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ پڑھا۔ اور اس آیت نے اُن کے دلوں میں ایسی تاثیر کی کہ گویا اُسی روز نازل ہوئی تھی۔ چنانچہ بعد اس کے حستان بن ثابت نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے یہ مرثیہ بنایا۔ كنت السواد لناظری فعمی علیک الناظر مَنْ شَاءَ بَعْدَكَ فَلْيَمُتْ فَعَلَيْكَ كُنْتُ أَحَاذِرُ یعنی تو میری آنکھوں کی پتلی تھا۔ میں تو تیری موت سے اندھا ہو گیا ۔ اب بعد اس کے جو چاہے مرے مجھے تو تیرے ہی مرنے کا خوف تھا۔ اس شعر میں حسان بن ثابت نے تمام نبیوں کی موت کی طرف اشارہ کیا ہے گویا وہ کہتا ہے کہ ہمیں اس کی کیا پروا ہے کہ موسیٰ مر گیا ہو یا عیسی مر گیا ہو ہما را ماتم تو اس نبی محبوب کے لئے ہے جو آج ہم سے علیحدہ ہو گیا اور آج ہماری آنکھوں سے پوشیدہ ہو گیا ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض صحابہ اس غلط عقیدہ میں بھی مبتلا تھے کہ گویا حضرت عیسی دوبارہ دنیا میں آئیں گے مگر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے آیت قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ جو شخص حضرت عیسی کو آیت قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ سے باہر رکھتا ہے اُس کو اقرار کرنا پڑے گا کہ عیسی انسان نہیں ہے اور نیز ظاہر ہے کہ اس صورت میں حضرت ابوبکر کا اس آیت سے استدلال صحیح نہیں ٹھہرتا کیونکہ جبکہ حضرت عیسی آسمان پر زندہ مع جسم عنصری موجود ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے تو اس آیت سے صحابہ رضی اللہ عنہم کو کون سی تسلی ہو سکتی تھی ۔ منہ آل عمران : ۱۴۵