حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 545 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 545

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۵۴۵ تتمه حقيقة الوحى صرف اسی بخار سے ہلاک ہو گئے اور بجز طاعون کو نسا بخار ہے جو صرف ایک دن میں ہلاک کر سکتا ۱۰۹ ہے۔ یادر ہے کہ طاعون کے لئے شدید بخار ہونا ایک لازمی امر ہے جو ایک دو دن میں ہی کام تمام کر دیتا ہے۔ پس جبکہ الہی بخش کی موت کے وقت طاعون لاہور میں زور سے پھیل رہی تھی اور وہ بھی طاعون زدہ مردہ کا جنازہ پڑھنے کے لئے گیا تھا اور وہیں بیہوش ہو گیا تھا تو کیا کسی جن کے آسیب سے یہ حالت ہوگئی تھی ۔ ظاہر ہے کہ طاعون کے دن تھے اور لاہور میں طاعون شدت سے زور پر تھی اس سے کون انکار کر سکتا ہے کہ ان دنوں میں صد ہا لوگ طاعونی بخار سے لاہور میں مر چکے ہیں اور اب تک یہی حالت ہے جو ہے بعض کو گلٹی نکلتی ہے اور بعض کو در بعض کو نہیں۔ اور بعض نمونیا پلیگ سے مرتے ہیں اور بعض سکتہ کی صورت میں فی الفور مر جاتے ہیں تو پھر خواہ نخواہ بے چارہ الہی بخش پر یہ جھوٹ باندھنا کہ وہ پلیگ سے نہیں مراکس قدر بے با کی ہے۔ کیا یعقوب پلیگ سے مرا تھا یا نہیں؟ ہمیں معتبر ڈاکٹروں کے ذریعہ سے معلوم ہوا ہے کہ الہی بخش کو سخت قسم کی پلیگ ہوئی تھی جس نے ایک دن میں ہی اُس کا کام تمام کر دیا چنانچہ ہم اس جگہ بطور شہادت ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب اسٹینٹ سرجن کا خط ذیل میں درج کر دیتے ہیں اور وہ یہ ہے۔ حضرت سیدی و مولائی وامامی حجت الله مسیح الموعود سلمہ اللہ تعالی السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ۔ الحمد للہ کہ حضور کی پیشگوئی پوری ہوئی اور دشمن ہلاک ہو گیا۔ حضور کو مبارک ہو۔ الہی بخش کو پوری علامات طاعون نمودار ہو گئی تھیں اور معتبر ذریعہ سے معلوم ہوا ہے کہ اُس کی بائیں ران کی جن میں یعنی کنج ران میں ایک گلٹی بھی نکلی تھی اس لئے اس میں کچھ شک نہیں کہ اُس کی موت طاعون سے ہوئی۔ باقی خیریت ہے۔ خاکسار یعقوب بیگ از لاہور پھر اگر یہ سوال ہو کہ الہی بخش کے دوستوں میں سے کس نے اس بات کو شائع کیا ہے کہ وہ طاعون سے مر گیا تو ہم ذیل میں پرچہ اہل حدیث مورخہ ۱ اپریل ۱۹۰۷ ء کی شہادت الہی بخش کی طاعون کے بارے میں نقل کرتے ہیں اور وہ یہ ہے۔