حقیقةُ الوحی — Page 542
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۵۴۲ تتمه حقيقة الوحى ۱۰۶ شائع کئے ہیں ایک منصف مزاج کے لئے کافی ہیں اور اگر چہ بعض بیہودہ اور نہایت لغو الہام اس کے جو ایک چھوٹی سی بیاض میں لکھتا جاتا تھا مجھ کو نہیں ملے مگر جس قدر مل گئے ہیں وہ اُس کا جھوٹ کھولنے کے لئے کافی ذخیرہ ہے اور جو پوشیدہ کئے گئے ہیں اُن کے دستیاب ہونے کی اُمید نہیں بلکہ یقین ہے کہ وہ تمام بیہودہ الہام جو جوش نفس سے میری نسبت کئے گئے تھے اُس کے ساتھ ہی دفن کئے گئے ہوں گے۔ وہ الہام جو میری نسبت الہی بخش نے عصائے موسیٰ میں لکھے ہیں جن کی نسبت وہ اپنی کتاب مذکور میں دعوی کرتا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں منجملہ اُن کے اُس کا وہ فرضی الہام ہے جو اُس کی کتاب عصائے موسیٰ کے صفحہ ۷۹ میں درج ہے اور وہ یہ ہے۔ سلام لک تغلبون۔ يحل عليه غضب فقد هوى - فتدبر ۔ ( ترجمہ ) تیرے لئے سلام ہے تم غالب ہو جاؤ گے اور اُس پر یعنی اس عاجز پر غضب نازل ہوگا اور وہ ضرور ہلاک ہو جاوے گا یعنی تم زندہ رہ کر اُس کی موت اور تباہی کو دیکھو گے پس سوچ لو۔ اس الہام کے معنی جیسا کہ خود الہی بخش نے جا بجا اپنی کتاب میں دوسرے الہاموں کے ذریعہ سے اس کی تشریح کی ہے یہ ہیں کہ گویا اُس کی زندگی میں ہی مجھ پر غضب نازل ہوگا اور میں ہلاک ہو جاؤں گا لیکن بر خلاف اس کے وہ خود میری زندگی میں ہلاک ہو گیا۔ اور ہر ایک کو معلوم ہے کہ خدا تعالیٰ کی تمام کتابوں میں طاعون کو غضب اللہ کی موت ٹھہرایا گیا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وقت طاعون بنی اسرائیل پر پڑی جو مور د غضب الہی تھے اس طاعون کا مفصل حال توریت میں موجود ہے اور پھر طاعون حضرت عیسیٰ کے بعد یہودیوں پر پڑی تھی جن پر انجیل میں غضب نازل ہونے کا وعدہ دیا گیا تھا اور اسی طاعون کا نام قرآن شریف میں رجز من السماء رکھا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے فَأَنْزَلْنَا عَلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا رِجْرًا مِنَ السَّمَاءِ بِمَا كَانُوا يَفْسُقُوْنَ کے یعنی ہم نے ظالموں پر طاعون کا عذاب بھیجا کیونکہ وہ فاسق تھے۔ یہ تو اللہ تعالیٰ نے کہیں نہیں فرمایا کہ أَنْزَلْنَا عَلَيْهِمْ رِجْزًا مِّنَ السَّمَاءِ بِمَا كَانُوا يُؤْمِنُونَ یعنی اس لئے ہم نے ان پر طاعون نازل کی کہ وہ مومن تھے البقرة : ٢٠