حقیقةُ الوحی — Page 524
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۵۲۴ تتمه حقيقة الوحى جیسا کہ تمام نبی لکھ چکے ہیں میرے وقت میں انواع اقسام کے عجائب نشان اور قہری تجلیات کا ظہور ضروری تھا سو ضرور ہے کہ میں اُس وقت تک زندہ رہوں کہ جب تک قہری نشان اور عجائبات بقيه حاشيه : پر خوب روشن ہے کہ جو طاقت آپ کے آباؤ اجداد میں تھی وہ اب آپ میں کہاں اور آپ میں جو حوصلہ طاقت اور عقل ہے وہ آپ کی اولاد میں ہے؟ یا کچھ آئندہ ہو جانے کی امید ہے ! پس اے دوستو ! اگر آپ لوگوں کو اس درد عظیم سے نجات پانے کی خواہش ہے تو بے عیب خلیفہ اللہ مہاراج کا ضرور خیال اور دھیان کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنے راستباز بندوں کے حامی ہوتے ہیں ان کو اپنے برگزیدہ بندوں کو ہمیشہ راحت پہنچانے ہی کی خواہش ہوتی ہے اور وہ اسی زمانہ میں ظاہر ہوکر تمام بدیوں اور بد کرداروں کو ہلاک کریں گے ۔ اگر کسی دوست کو یہ خیال ہووے کہ ابھی کلجگ ( زمانہ کذب وافترا) کا پہلا ہی دور ہے اور مہاراج کا جنم کلجگ کے آخر میں لکھا ہے تو آپ غور کریں کہ اس سے زیادہ اور کیا کلجگ ظاہر ہوگا کہ عورتیں اپنے شوہروں کو چھوڑ کر دوسروں پر نظر رکھتی ہیں اور اولا داپنے والدین کی فرمانبرداری اور وفاداری میں نہ رہیں اور والدین اپنی اولاد کو اولا د کی طرح نہ سمجھیں یہاں تک کہ سب ہی چیزیں اپنے اپنے مذہب سے پھری ہوئی ہیں ۔ اب کوئی صاحب یہ فرماویں کہ ابھی شاستر کے موافق وقت نہیں معلوم ہوتا تو اس کا جواب یہ ہے کہ بھائی پیارے دوستو ! نرسی جی (ایک برگزیدہ بندۂ خدا) کا ظہور بھی پہلے ما عالم کی سمجھ میں نہیں آیا تھا کہ شری کرشن جی مہاراج ایسا ظہور کریں گے اور اسی طرح سیکڑوں برگزیدہ بندگانِ خدا کی حمایت اور نصرت کی گئی جیسے کہ پہلا د بھگت کی حمایت اور نصرت کا کوئی وقت اور تاریخ لکھی نہ گئی تھی مگر جب نر سنگھ جی ظاہر ہو کسی چکے اور دیت راج کو مار چکے تب معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے برگزیدہ بندہ کی حمایت کے واسطے ظہور فرمایا ہے اسی طرح پر کلگی بھگوان مہاراج کا ظہور ہے اور وہ کل دنیا کے آرام کا باعث ہوا ہے اور اسی سے کام کاج چلتا ہے کیونکہ آنکھوں سے اسی وقت دکھائی دیتا ہے جب اندھیرا دور ہو جاوے۔ پیارے دوستو ! کچی عبادت اور محبت الہی تب ہی ہوتی ہے جب اللہ تعالیٰ کو انسان گویا دیکھ لے۔ جیسا کہ شیو جی مہاراج نے فرمایا ہے کہ ” آگ کل دُنیا میں رہتی ہے اور جس طرح پر رگڑ سے وہ پیدا ہوتی ہے اسی طرح پر میشر کا حال ہے ۔ جب انسان اس سے محبت کرتا ہے تو اُس کا ظہور ہوتا ہے ۔ اپنی کتابوں کے سچے تجربہ کو سچے یقین سے مان لو اور جو کوئی یہ سوال کرے کہ وہ کہاں پیدا ہوئے ہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ اے عقلمند و! غور کرو کہ اُس کے ظہور کا وہ محل ہے جہاں آفتاب کا ظہور ہوتا ہے ( یعنی مشرق میں ) سنبھل ( وہ جگہ جہاں اس اوتار کا ظہور مانا گیا ہے ) وہی ہے جہاں وہ خلیفہ اللہ ظاہر ہوں ۔ دوستو ! بزرگو! پنڈ تو ! میرے اس تھوڑے لکھے کو بہت جانو کیونکہ عقلمندوں کو اشارہ ہی کافی ہے۔ اب خدا تعالیٰ سے دعا ہے کہ آپ جلد اپنا ظہور فرما کر اپنے دوستوں کو بچائیے اور اس دنیا کے جال سے نجات دیجئے ورنہ دنیا بگڑ چکی ہے۔ اگر اس میں کوئی امر غیر مناسب ہو یا فرو گذاشت ہوئی ہو تو آپ معاف کریں۔ المشتهر بالمکند جی کونچہ پاتی رام دہلی ( مطبوعہ نظامی پریس دہلی )