حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 500 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 500

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۵۰۰ تتمه حقيقة الوحى کے مقتضی ہیں اور عذاب رسول کے وجود کا مقتضی ہے اور وہی رسول مسیح موعود ہے۔ پس تعجب ہے اُس قوم سے جو کہتی ہے کہ مسیح موعود کا قرآن شریف میں ذکر نہیں ۔ علاوہ اس کے قرآن شریف کی یہ آیت بھی کہ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ ل پر یہی چاہتی ہے کہ اس اُمت کے لئے چودھویں صدی میں مثیل عیسی ظاہر ہو جیسا کہ حضرت عیسیٰ حضرت موسیٰ سے چودھویں صدی میں ظاہر ہوئے تھے تا دونوں مثیلوں کے اول و آخر میں مشابہت ہو اسی طرح قرآن شریف میں یہ بھی پیشگوئی ہے وَ إِنْ مِنْ قَرْيَةٍ إِلَّا نَحْنُ مُهْلِكُوهَا قَبْلَ يَوْمِ الْقِيمَةِ أَوْ مُعَذِّبُوهَا عَذَابًا شَدِيدًا کے یعنی کوئی ایسی بستی نہیں جس کو ہم قیامت سے پہلے ہلاک نہ کریں گے یا اُس پر شدید عذاب نازل نہ کریں گے یعنی آخری زمانہ میں ایک سخت عذاب نازل ہوگا اور دوسری طرف یہ فرمایا وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُوْلًا ہے پس اس سے بھی آخری زمانہ میں ایک رسول کا مبعوث ہونا ظاہر ہوتا ہے اور وہی مسیح موعود ہے۔ اور یہی پیشگوئی سورہ فاتحہ میں بھی موجود ہے کیونکہ سورہ فاتحہ میں خدا تعالیٰ نے عیسائیوں کا نام الضالین رکھا ہے اس میں یہ اشارہ ہے کہ اگر چہ دنیا کے صد ہا فرقوں میں ضلالت موجود ہے مگر عیسائیوں کی ضلالت کمال تک پہنچ جائے گی گویا دنیا میں فرقہ ضالہ وہی ہے اور جب کسی قوم کی ضلالت کمال تک پہنچتی ہے اور وہ اپنے گناہوں سے باز نہیں آتی تو سنت اللہ اسی طرح پر جاری ہے کہ ان پر عذاب نازل ہوتا ہے پس اس سے بھی مسیح موعود کا آنا ضروری ٹھیرتا ہے یعنی بموجب آیت وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُولًا ۔ اور یہ عجیب بات ہے کہ جیسا کہ احادیث نبویہ میں مسیح موعود کی نسبت پیشگوئی ہے کہ وہ آخری زمانہ میں ظاہر ہوگا۔ ایسا ہی ایک رجل فارسی کی نسبت پیشگوئی ہے کہ وہ آخری زمانہ میں ضائع شدہ ایمان کو پھر بحال کرے گا جیسا کہ لکھا ہے لو كان الايمان معلقا بالثريا لناله رجل من فارس یعنی اگر ایمان ثریا پر چلا جا تا تب بھی ایک رجل فارسی اس کو واپس لے آتا ۔ اب ظاہر ہے کہ رجل فارسی کو اس حدیث میں اس قدر فضیلت دی گئی ہے اور اس قدر کار نمایاں کام اس کا دکھلایا گیا ہے کہ یہ کہنا پڑتا ہے کہ وہ رجل فارسی مسیح موعود سے افضل ہے کیونکہ مسیح موعود بقول مخالفوں ل النور : ۵۶ ۲ بنی اسرآئیل: ۵۹ ۳ بنی اسرآئیل: ۱۶