حقیقةُ الوحی — Page 450
روحانی خزائن جلد ۲۲ لده۔ تتمه حقيقة الوحى کوئی مدد کرے مگر ان تمام آرزوؤں سے نامراد رہ کر اس ذلت کے ساتھ مر گیا کہ کوئی مراد اُس کی پوری نہ ہوئی اور میں نے اُس کو بار بار خبر دی تھی کہ الہام ان شانئک هو الابتر میں ابتر سے ☆ اله مراد خدا تعالیٰ کی یہی ہے کہ آئندہ اولاد کا سلسلہ اُس پر بند ہوگا اور اُس کا بیٹا بھی ابتر ہی مرے گا سو اُس نے نے دیکھ لیا کہ باوجود اس کے کہ پیشگوئی کے وقت سے بارہ سال تک وہ زندہ رہا اور دعا ئیں بھی کرتا رہا لیکن بجز اُس لڑکے کے جو پیشگوئی کے وقت قریباً پندرہ سال کا تھا اور کوئی اولاد اس کے گھر میں نہ ہوئی اور یہ حسرت بھی ساتھ لے گیا کہ بیٹے کی شادی نہ کر سکا پس پیشگوئی کے مطابق یہ تمام مجموعہ ذلتوں کا اس کے نصیب ہوا۔ اور اسی سعد اللہ کے بارے میں اشتہار انعامی ۱۹ تین ہزار روپیہ مشتہرہ پانچ اکتوبر ۱۸۹۴ء کے صفحہ ۱۲ پر جو کتاب انوار الاسلام کے ساتھ ملحق ہے خدا تعالیٰ سے الہام پا کر مندرجہ ذیل عبارت میں نے لکھی تھی اور وہ یہ ہے : ۳۰۰۰ حق سے لڑتا رہ آخر اے مر دار تو دیکھے گا کہ تیرا کیا انجام ہوگا۔ اے عدو اللہ تو مجھ سے نہیں خدا سے لڑ رہا ہے۔ بخدا مجھے اسی وقت ۲۹ ستمبر ۱۸۹۴ء کو تیری نسبت یہ الہام ہوا ہے ان شانئك هو الابتر ۔ اس الہامی عبارت کا ترجمہ یہ ہے کہ سعد اللہ جو تجھے ابتر کہتا ہے اور یہ دعویٰ کرتا ہے کہ تیرا سلسلہ اولاد اور دوسری برکات کا منقطع ہو جائے گا ایسا ہر گز نہیں ہوگا بلکہ وہ خودا بتر رہے گا۔ یادر ہے کہ یہ فقرہ کہ ان شانئک هو الابتر زبان عرب میں بغیر مقابلہ کے نہیں آتا یعنی اب دیکھنا چاہیے کہ اس کی نامرادی اور حسرت اور ذلت کی موت سے کیسے اس پیشگوئی کے معنی کھل گئے کہ خدا ذلت اور رسوائی کی اس کو موت دے گا جیسا کہ اس واقعہ سے بارہ برس پہلے اس کی نسبت انجام آتھم میں یہ پیشگوئی کی گئی تھی اذ يتنى خُبْتًا فلستُ بصادق ان لم تمت بالخزى يا ابن بغاء یعنی تو نے اے سعد اللہ اپنی فطرتی خباثت سے مجھے بہت دکھ دیا ہے پس میں اس حالت میں سچا نہیں ہوں گا کہ جب ذلت کے ساتھ تیری موت نہ ہو۔ پس اس سے بڑھ کر ذلت اور کیا ہوگی کہ وہ میری موت چاہتا تھا مگر میری زندگی میں مر گیا اور میری نامرادی چاہتا تھا مگر میرے اقبال اور ترقی کو دیکھ گیا۔ منہ