حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 444 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 444

روحانی خزائن جلد ۲۲ تتمه حقيقة الوحى نہ اُٹھایا مگر پادریوں کی اطاعت کا جُوا اٹھا لیا ۔ پس ان معنوں کے رو سے بھی وہ ابتر ٹھیرا۔ پھر جیسا کہ بیان کر چکا ہوں ان معنوں کے رو سے بھی ابتر ہوا کہ اُس وقت سے جو اس کی نسبت خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ گویا اسی دم سے خدا تعالیٰ نے اس کی بیوی کے رحم پر مہر لگا دی اور اس کو یہ الہام کھلے کھلے لفظوں میں سنایا گیا تھا کہ اب موت کے دن تک تیرے گھر میں اولاد نہ ہوگی اور نہ آگے سلسلہ اولاد کا چلے گا اور یقیناً اُس نے اس الہام کو توڑنے کے لئے اولاد حاصل کرنے کی غرض سے بہت کوشش کی ہو گی مگر وہ کوشش ضائع گئی ۔ آخر نا مراد مرا اور ابتر کے ہر ایک معنی اُس پر صادق آگئے ۔ اور دوسری طرف جو میری نسبت وہ بار بار بد دعائیں کرتا تھا کہ یہ شخص مفتری ہے ہلاک ہو جائے گا اور اولاد بھی مرے گی اور جماعت متفرق ہو جائے گی اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس الہام کے بعد یعنی الهام إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ کے بعد تین لڑکے میرے گھر میں پیدا ہوئے اور تین لاکھ سے زیادہ جماعت ہو گئی اور کئی لاکھ روپیہ آیا اور کئی عیسائی اور ہندو میری دعوت سے مسلمان ہوئے ۔ پس کیا یہ نشان نہیں اور کیا یہ پیشگوئی پوری نہیں ہوئی اور یہ کہنا کہ سعد اللہ کے لڑکے کی عبد الرحیم کی دختر سے نسبت ہو گئی ہے اور شادی ہو جائے گی اور اولا د بھی ہو گی یہ ایک خیالی پلاؤ ہے اور محض ایک گرہ ہے جو ہنسی کے لائق ہے اور اس کا جواب بھی یہی ہے کہ خدا کے وعدے ٹل نہیں سکتے ۔ یہ بات تو اُس وقت پیش کرنی چاہیے کہ جب شادی ہو جائے اور اولاد بھی ہو جائے ۔ بالفعل تو ایمانداری کا یہ تقاضا ہے کہ اس بات کو غور سے سوچیں کہ جیسا کہ قرآن شریف کی یہ پیشگوئی پوری ہوئی کہ إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ حاشیہ : یہ اسی طرح کی امید ہے جیسا کہ عبد الحق غزنوی ثم امرتسری نے مباہلہ کے بعد اپنی نسبت مباہلہ کا ثر یہ ظاہر کیا تھا کہ میرا بھائی مر گیا ہے اس کی بیوی سے میں نے نکاح کیا ہے اور اس کو حمل ہو گیا ہے اور اب اس کو لڑکا پیدا ہو گا اور وہ مباہلہ کا اثر سمجھا جائے گا مگر اُس حمل کا انجام یہ ہوا کہ کچھ بھی پیدا نہ ہوا اور اب تک وہ با وجود گذر نے چودہ برس کے نامرادی اور ذلت کی زندگی بھگت رہا ہے اور بر خلاف اس کے مباہلہ کے بعد میرے گھر میں کئی لڑکے پیدا ہوئے اور کئی لاکھ انسان نے بیعت کی اور کئی لاکھ روپیہ آیا اور دنیا کے کناروں تک عزت کے ساتھ میری شہرت ہو گئی اور اکثر دشمن مباہلہ کے بعد مر گئے اور ہزار ہانشان آسمانی میرے ہاتھ پر ظاہر ہوئے ۔ منہ ☆