حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 422 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 422

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۴۲۲ حقيقة الوحى فاذا برق البصر۔ الخ) حمد ( نقل مطابق اصل صحیح یوں ہے ( نقل مطابق اصل صحیح یوں ہے و ما كان ربك مهلك القراى حتى يبعث في امها رسولا) اور فرمايا يوم نبطش البطشة الكبرى انا منتقمون يعنى انتظاری کرو اس دن کی کہ لاوے آسمان دھو آں ڈھانک لے گا لوگوں کو ۔ یہ ہے عذاب درد دینے والا ۔ جس دن پکڑیں گے ہم پکڑ نا سخت تحقیق ہم بدلہ لینے والے ہیں اور اسی طرح سورۃ قیامت میں فرمایا: واذا برق البصر ☆ و خسف القمر و جمع الشمس والقمر يقول الانسان يومئذ اين المفر كلا لا وزر الی ربک یومئذ المستقر یعنی چاند اور سورج کو جب ایک ہی مہینے یعنی رمضان میں گہن ہوگا تو اس کے بعد لوگ بھاگنے کی جگہ ڈھونڈیں گے اور نہ پاویں گے۔ سوائے اس کے کتب مقدسہ میں بھی اس زمانہ کے متعلق بہت سی پیشین گوئیاں موجود ہیں ۔ دیکھو یسعیاہ باب ۴، ۶۶/۱۵ اور ۵۰ زبور ۳ آیت اور دانی ایل ب ۱۲ ، حزقی ایل ۱۵ ۳۸ و حقوق ب۳۔ صفنیاہ ب۳ ۔ میکا یہ ب ۴۔ متی ب ۱۳/۴۰ و ۱۵ - ۳۱- مکاشفات ب ۱۵، ۱۶۔ ان کتابوں میں اس زمانہ کا پورا اور کامل فوٹو موجود ہے۔ ۲۴ ہاں اگر یہ سوال ہو کہ ہم کیونکر مانیں کہ یہ عذاب امام الوقت کی مخالفت کے باعث ہم پر آ گیا * ہے تو اس کا جواب ہم آیات ذیل سے دیتے ہیں جیسا فرمایا و ما نهلك القرى حتى نبعث فيهم رسولا یعنی ہم کسی بستی کو بھی ہلاک نہیں کرتے جب تک کہ ان کے درمیان کوئی رسول و بقیہ حاشیہ نمبر : آسمان سے ملا ہوا تھا اور وہ روشنی سیدھی میری طرف آئی اور جس قد ر نز دیک آتی تھی کم ہوتی جاتی تھی یہاں تک کہ جب میرے نزدیک پہنچی تو میں نے بجائے روشنی کے صرف واحد شخص کو دیکھا جس کے دونوں ہاتھوں میں نعلین کی صورت پر دو اشیاء پکڑی ہوئی تھیں اور جب اُن کو ہلاتا تھا تو وہ روشنی اُن کے اندر سے نکلتی تھی چنانچہ اُس شخص نے میرے قریب آ کر نہایت جذبہ کے ساتھ پکارا کہ بیماروں کو حاضر کرو۔ اُس کے کہنے پر میں اُس کے آگے سرنگوں ہو گیا اور اُس نے اُس چیز کے ساتھ جو اُس کے ہاتھ میں تھی میرے سر کو مسح کیا اور میں دیکھتا ہوں کہ میرے گلے میں قیدیوں کی طرح لوہے کی ایک ہیکل پڑی ہے جس کو میں اپنے دونوں ہاتھوں سے کھول رہا ہوں چنانچہ اس کے چند روز بعد پھر پہلے کی طرح کشفی حالت مجھ پر طاری ہوئی اور ایک ایسا سرور میرے دل پر طاری ہوا کہ گویا میں بادشاہ ہوں چنانچہ اسی سرور اور تموج کی حالت میں ایک روز کشفی طور پر میں خدا کے حضور پہنچایا گیا اور اس وقت مسیحی تعلیم یعنی انجیل کی حقیقت مجھ پر کھولی گئی اور مسیحیوں کی غلط نہی پر آگاہ کیا گیا اور اس کے ساتھ یہ بات بھی