حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 420 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 420

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۴۲۰ حقيقة الوحى ایک ہی گھاٹ سے پانی پئیں گے اس کا ثبوت قرآن شریف اور کتب مقدسہ میں موجود ہے۔ اب میں اس بات کو بھی ظاہر کر دیتا ہوں کہ وہ متبرک زمانہ جس کی تعریف کی گئی ہے عمر دنیا میں ساتواں ہزار ہے جو سبت کی طرح خدا کی بادشاہت یعنی صلح و صلاحیت کے لئے مخصوص و مقرر ہے اور یہ بات بھی مجھ پر ثابت ہو چکی ہے کہ یہ صدی چھٹویں ہزار کا اختتام ہے اس لئے اس روحانی قیامت کی تیاری کے لئے جو کچھ انقلاب وقوع میں آنے والا ہے اسی صدی میں پورا کیا جائے گا ۔ پس اس کامل اور عظیم الشان روحانی انقلاب کی تیاری کے واسطے خدا تعالیٰ نے دو طرح کا انتظام فرمایا ہے۔ ایک جمالی دوسرا جلالی، جمالی تو یہ ہے کہ اُس نے اپنی سنت قدیمہ کے مطابق جیسا کہ وہ ہر ایک زمانہ میں دنیا کی ہدایت و صلاحیت کے لئے اپنے بندوں میں سے بعض کو مامور و مبعوث فرماتا رہا ہے۔ اس زمانہ میں بھی اپنے ایک خاص بندہ کو جن کا نام نامی واسم گرامی حضرت میرزا غلام احمد صاحب قادیانی ہے منصب امامت عطا کر کے مامور و مبعوث فرمایا ہے تا کہ دنیا آپ کے زیر سایہ ہدایت واطاعت میں رہ کر اس پاک روحانی تبدیلی کا نور جس کا حصول روحانی قیامت کی تیاری کے لئے ضروری ہے اپنے اندر پیدا کرے اور خدا تعالیٰ کی اس پُر امن و با برکت بادشاہت میں جس کا ذکر کیا گیا ۔ ہے اور جس میں کسی نا پاک اور شریر کا گذر نہیں ہو سکتا داخل وشامل ہونے کے لائق ٹھیرے۔ اور دوسرا نظام خدا تعالیٰ کا جلالی اور قہری حربہ جس سے مراد طاعون اور قحط ہے تا کہ جو لوگ اُس بقیہ حاشیہ نمبر : اطمینان کے لئے میں اپنے بعض رؤیا اور کشوف کو بھی اختصار کے ساتھ تحریر کر دینا مناسب سمجھتا ہوں۔ پس واضح رائے ناظرین ہو کہ عرصہ قریبا بارہ سال کا گذرا ہو گا کہ ایک رویا صالحہ میں اس عاجز نے دیکھا۔ کہ ایک نورستون کی صورت پر آیا اور اُس نے مجھے اپنے اندر ڈھانپ لیا اور میری حالت کو بدل ڈالا۔ اور کلمہ توحید میری زبان پر جاری کر دیا چنانچہ اس کے بعد ایک سال سے کچھ زیادہ عرصہ تک میں اللہ تعالیٰ کو مشاہدہ میں دیکھتا رہا اور جب وہ حالت کم ہونے لگی تو ایک رات میں نے رویا کی حالت میں خدا تعالیٰ کو دیکھا اور میں اس میں بالکل محو اور وصل ہو گیا اور تمام روز اس کی لذت اور سرور میرے دل پر موجودرہا اور پھر بعد اس کے آج سے قریباً سات سال پہلے ایک رویا صالحہ میں اس عاجز نے ایک کثیر التعداد جماعت کو ایک مقام پر حضرت مسیح علیہ السلام کی انتظاری میں کھڑے اور آسمان کی طرف تا کتے ہوئے دیکھا کہ گویا اب ہی حضرت مسیح علیہ السلام نزول فرمائیں گے اور یہ بھی دیکھا کہ نزول مسیح کے لئے ایک مینار بنانے کے تردد میں لگ رہے ہیں اور اُس وقت مجھے ایک