حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 404 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 404

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۴۰۴ حقيقة الوحى تضرع وزاری سے رد ہو سکتی ہے۔ یہ بات ایک ادنی عقل کا انسان بھی سمجھ سکتا ہے کہ جب ایک بلا جس کے نازل کرنے کا ارادہ خدا نے فرمایا ہے خدا کے علم تک ہی محدودر ہے اور کسی نبی کو اس سے اطلاع نہ دی جائے تو وہ صرف بلا کے نام سے موسوم ہوتی ہے اور جب نبی کو اس بلا سے اطلاع دی جائے تو پھر وہی بلا و عید کی پیشگوئی کہلاتی ہے۔ پس اگر بہر حال وعید کی پیشگوئی کا پورا ہونا ضروری ہے تو اس سے ماننا پڑتا ہے کہ بہر حال بلا کا نازل ہونا ضروری ہے۔ حالانکہ ابھی ہم بیان کر چکے ہیں ہیں کہ کہ بلا بلا صدقہ صدقہ و و خیرات اور دعا وغیرہ سے رد ہو سکتی ہے اور اس پر کل انبیاء کا اجماع ہے پس یہ کمبینہ حملے جو یہ لوگ مولوی کہلا کر میرے پر کرتے ہیں یہ سخت حیرت کا موجب ہے اور تعجب آتا ہے کہ کیا یہ لوگ کبھی قرآن شریف بھی نہیں پڑھتے اور کیا کبھی حدیثوں کو نہیں دیکھتے کیا ان کو یونس نبی کی پیشگوئی بھی معلوم نہیں جس کا مفصل قصہ کتاب در منثور میں بھی مذکور ہے جس کے ساتھ کوئی شرط موجود نہ تھی لیکن پھر بھی تو بہ کرنے سے وہ سب لوگ عذاب سے بچائے گئے اور یونس باوجود یکہ خدا کا نبی تھا جب اُس کے دل میں گذرا کہ میری پیشگوئی کیوں نہیں پوری ہوئی اور کیوں وہ لوگ ہلاک نہیں کئے گئے تو تنبیہ کے طور پر اس پر عذب نازل کیا گیا۔ اور اُس نے اس اعتراض کی وجہ سے بڑے بڑے دکھ اُٹھائے اور پھر جبکہ اس پاک دل نبی نے اس اعتراض کی وجہ سے اتنے دکھ اُٹھائے تو ان لوگوں کا کیا حال ہوگا جو شرطی پیشگوئیوں کی نسبت بار بار اعتراض کرتے ہیں اور باز نہیں آتے ۔ اگر ان کے دلوں میں خدا کا خوف ہوتا تو یونس کی پیشگوئی سے کوئی سبق حاصل کرتے اور اتنی زبان درازی اور شوخی نہ دکھلاتے اور اگر کچھ جس بلا سے اللہ تعالیٰ بذریعہ کسی نبی یا رسول یا محدث کے اطلاع دیتا ہے وہ ایسی بلا سے زیادہ رڈ ہونے کے لائق ہوتی ہے جس کی اطلاع نہیں دی جاتی کیونکہ اطلاع دینے سے سمجھا جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا یہ ارادہ ہے کہ اگر کوئی شخص تو بہ استغفار یا دعا کرے یا صدقہ خیرات دے تو وہ بلا رد کی جائے ۔ اور اگر وعید کی پیشگوئی رد نہیں ہو سکتی تو یہ کہنا پڑے گا کہ بلا رد نہیں ہو سکتی اور یہ بر خلاف معتقدات دین ہے اور نیز اس صورت میں یہ اعتقاد رکھنا پڑے گا کہ بر وقت نزول بلا صدقہ و خیرات اور توبہ و دعا سب لا حاصل ہے۔ منہ