حقیقةُ الوحی — Page 401
روحانی خزائن جلد ۲۲ لدها حقيقة الوحى امور غیبیہ جو مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے معلوم ہوں اپنی جماعت کے دو اخباروں میں شائع کروں اور دونوں فریقوں کے لئے شرط یہ ہے کہ جو الہام اخباروں میں درج کرائے جائیں وہ ایسے ہوں کہ ہر ایک اُن میں سے امور غیبیہ پر مشتمل ہو اور ایسے امور غیب ہوں جو انسانی طاقتوں سے بالاتر ہوں اور پھر ایک سال کے بعد چند منصفوں کے ذریعہ سے دیکھا جائے گا کہ کس طرف غلبہ اور کثرت ہے اور کس فریق کی پیشگوئیاں پوری ہوگئی ہیں اور اس امتحان کے بعد اگر فریق مخالف کا غلبہ رہا اور میرا غلبہ نہ ہوا تو میں کا ذب ٹھیروں گا اور نہ قوم پر لازم ہوگا کہ خدا تعالیٰ سے ڈر کر آئندہ طریق تکذیب اور انکار کو چھوڑ دیں اور خدا کے مرسل کا مقابلہ کر کے اپنی عاقبت خراب نہ کریں۔ اور یادر ہے کہ جن اعتراضوں کو وہ پیش کرتے ہیں اگر ان سے کچھ ثابت ہوتا ہے تو بس یہ ہی ثابت ہوتا ہے کہ اُن کے دل تعصب کے غبار ۳۸۷ اور تاریکی سے بھر گئے ہیں اور اُن کی آنکھوں پر بغض اور حسد کے پر دے آگئے ہیں مثلاً بار بار یہ پیش کرنا کہ ڈپٹی آتھم کی نسبت پیشگوئی پوری نہیں ہوئی کیا یہ ایمانداری کا اعتراض ہے کہ آتھم کی نسبت پیشگوئی پوری نہ ہوئی کیا یہ سچ نہیں ہے کہ گیارہ برس سے بھی زیادہ عرصہ گذر چکا ہے کہ آتھم مر گیا اور اب زمین پر اس کا نام ونشان نہیں اور اُس کا رجوع کرنا قریباً ستر آدمیوں کی گواہی سے ثابت ہے جبکہ اُس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو عین مجلس مباحثہ میں دجال کہنے سے رجوع کیا اور پھر پندرہ مہینے تک روتا رہا اور یہ پیشگوئی شرطی تھی جیسا کہ پیشگوئی کے یہ لفظ تھے کہ بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے پھر جبکہ اس نے رجوع کر لیا اور ان گواہوں کے رو برور جوع کیا جن میں سے اب تک بہت سے زندہ ہیں تو پھر اب تک اعتراض کرنے سے باز نہ آنا کیا کسی پاک طینت کی علامت ہے۔ ایسا ہی محض تعصب اور جہالت سے یہ اعتراض کرتے ہیں کہ احمد بیگ کے داماد کی نسبت بھی پیشگوئی پوری نہیں ہوئی اور دیانت کا حال یہ ہے کہ اس اعتراض کے وقت احمد بیگ کا نام بھی نہیں لیتے کہ اُس پر کیا حقیقت گذری اور محض خیانت کے طور پر پیشگوئی کی ایک