حقیقةُ الوحی — Page 396
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۳۹۶ حقيقة الوحى میں ہی مر جائے گی چنانچہ اس پیشگوئی کے مطابق لڑکی پیدا ہوئی اور پیشگوئی کے مطابق طفولیت میں ہی مرگئی دیکھو ا خبار الحکم نمبر ۴ جلد ۷ ۔ ۱۸۲۔ نشان ۔ مولوی محمد فضل صاحب احمدی مقام چنگا تحصیل گوجر خان ضلع راولپنڈی سے لکھتے ہیں کہ ایک روز ماہ مئی ۱۹۰۴ء کو بمقام چنگا چنگا تحصیل گوجر خان ضلع راولپنڈی جبکہ میں کچھ آدمیوں کے ساتھ جن میں بعض احمدی اور چند غیر احمدی شامل تھے نماز جمعہ ادا کر کے مسجد میں بیٹھا ہوا تھا تو ایک شخص مسمی فضل داد خان نمبردار چنگا جو میرا ہم قوم اور رشتہ میں سے تھا ایک شخص کے ورغلانے سے مسجد میں آکر مجھے معہ دیگر احمد یوں کے ملامت کرنے لگا اور کہا کہ تم لوگ مسجد میں نماز نہ پڑھا کرو مسجد کو بھرشٹ کر دیا ہے پھر فروعی مسائل کا جواحمدیوں اور غیر ۳۸۲ احمدیوں میں مختلف فیہ ہیں ذکر چھیڑ کر میرے ساتھ مجادلہ شروع کر دیا۔ میں نے اُس کو معقولاً و منقولاً سمجھایا اور خوب ملزم کیا مگر وہ تکذیب پر اڑا رہا اور اُس کے بہکانے سے عوام کو میں نے احمد یوں پر مشتعل پایا اور دیکھا کہ وہ شخص فتنہ اور فساد سے باز نہیں آتا اُس وقت میرے دل پر سخت قلق واضطراب پیدا ہوا کہ خدا وندا اب اس امر کا کیا علاج ہو اس شخص کے ذریعہ بڑا فتنہ ہونے والا ہے۔ تب میں نے اس کو اپنا مخاطب بنا کر کہا کہ اگر میں جو مسائل بیان کر رہا ہوں اُن میں جھوٹا ہوں تو خدا تعالیٰ تجھ سے پہلے مجھے ہلاک کرے اور اگر تو جھوٹا ہے تو خدا تعالیٰ تجھے ہلاک کرے۔ تب فضل داد خان نے ان لفظوں کے ساتھ مجھے جواب دیا کہ ا ہو گیا اور دس ماہ کے خدا تجھے ہلاک کرے۔ پھر میں اُسی وقت مسجد سے باہر آگیا اور لوگ منتشر ہو گئے ۔ پھر چند روز کے ، بعد شخص مذکور ( یعنی فضل داد خان ) درد شکم کی سخت مرض میں مبتلا ہو گیا اور در اندر ۲۴ مارچ ۱۹۰۶ ء کو مر گیا اور اپنی موت سے سلسلہ احمدیہ کی صداقت کا نشان بطور یادگار چھوڑ گیا۔ کچھ مدت تک مجلس مباہلین حاضرین میں اس کے مرنے سے ایک دہشت اور رعب پھیل گیا تھا اور میں نے اپنے بعض مخالفین سے بھی اپنے کانوں کے ساتھ یہ ذکر سنا کہ اس شخص کی