حقیقةُ الوحی — Page 387
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۳۸۷ حقيقة الوحى دوسری پیشگوئی کی تصریح کے لئے ضرور تھا بہر حال اس پیشگوئی سے تین برس بعد چراغ دین مر گیا اور غضب اللہ کی بیماری سے یعنی طاعون کی بیماری سے اُس کی موت ہوئی اور یہی وجہ ہے کہ طاعون کے رسالہ میں بھی یعنی دافع البلاء میں یہ پیشگوئی لکھی ہے اور اس پیشگوئی کا ہم پہلو نشان چراغ دین کا خود اپنا مباہلہ ہے اس لئے ہم وہ نشان الگ طور پر اس پیشگوئی کے ساتھ ہی ذیل میں لکھتے ہیں اور وہ یہ ہے: لمسير ۱۷۴۔ نشان ۔ یہ نشان چراغ دین کے مباہلہ کا نشان ہے اس کی تفصیل یہ ہے کہ جبکہ چراغ دین کو بار بار یہ شیطانی الہام میری نسبت ہوئے کہ یہ شخص دجال ہے اور اپنی نسبت یہ الہام ہوا کہ وہ اس دجال کو نابود کرنے کے لئے خدا تعالیٰ کی طرف سے آیا ہے اور حضرت عیسی نے اس کو اپنا عصا دیا ہے تا اُس عصا سے اس دجال کو تل کرے تو اس کا تکبر بہت بڑھ گیا اور اس نے ایک کتاب بنائی اور اُس کا نام منارہ اسے رکھا اور اس میں بار باراسی بات پر زور دیا کہ گویا میں حقیقت میں موعود دجال ہوں اور پھر جب منارة امسیح کی تالیف پر ایک برس گزر گیا تو اس نے مجھے دجال ثابت کرنے کے لئے ایک اور کتاب بنائی اور بار بار لوگوں کو یاد دلایا کہ یہ وہی دجال ہے جس کے آنے کی خبر احادیث میں ہے اور چونکہ غضب الہی کا وقت اُس کے لئے قریب آگیا تھا اس لئے اُس نے اس دوسری کتاب میں مباہلہ کی دعا لکھی اور جناب الہی میں دعا کر کے میری ہلاکت چاہی اور مجھے ایک فتنہ قرار دے کر خدا تعالیٰ سے دعا کی کہ تو اس فتنہ کو دنیا سے اُٹھا دے۔ یہ عجیب قدرت حق اور عبرت کا مقام ہے کہ جب مضمون مباہلہ اُس نے کا تب کے حوالہ کیا تو وہ کا پیاں ابھی پتھر پر نہیں جمی تھیں کہ دونوں لڑکے اُس کے جو صرف دو ہی تھے طاعون میں مبتلا ہو کر مر گئے اور آخر ۴ را پریل ۱۹۰۶ ء کو لڑکوں کی موت سے دو تین روز بعد طاعون میں مبتلا ہو کر اس جہان کو چھوڑ گیا اور لوگوں پر ظاہر کر گیا کہ صادق کون ہے اور کاذب کون ۔ جو لوگ اُس وقت حاضر تھے اُن کی زبانی سنا گیا ہے کہ وہ اپنی موت کے قریب کہتا تھا کہ اب خدا بھی میرا دشمن ہو گیا ہے۔ چونکہ اس ۳۷۴ کی وہ کتاب چھپ گئی ہے جس میں وہ مباہلہ ہے اس لئے ہم اُن لوگوں کے لئے جو خدا تعالیٰ سے