حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 377 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 377

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۳۷۷ حقيقة الوحى عالم کشف میں مجھے دکھائی دیا کہ ایک بلا سیاہ رنگ چار پائے کی شکل پر جو بھیڑ کے قد کی مانند اس کا قد تھا اور بڑے بڑے بال تھے اور بڑے بڑے پنجے تھے میرے پر حملہ کرنے لگی اور میرے دل میں ڈالا گیا کہ یہی صرع ہے تب میں نے اپنا داہنا ہاتھ زور سے اُس کے سینہ پر مارا اور کہا کہ دور ہو تیرا مجھ میں حصہ نہیں ۔ تب خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ بعد اس کے وہ خطرناک عوارض جاتے رہے اور وہ درد شدید بالکل جاتی رہی صرف دوران سر کبھی کبھی ہوتا ہے۔ تا دو زرد رنگ چادروں کی پیشگوئی میں خلل نہ آوے۔ دوسری مرض ذیا بیطیس تخمینا بیس برس سے ہے جو مجھے لاحق ہے جیسا کہ اس نشان کا پہلے بھی ذکر ہو چکا ہے اور ابھی تک میں دفعہ کے قریب ہر روز پیشاب آتا ہے اور امتحان سے بول میں شکر ۳۶۴ پائی گئی ۔ ایک دن مجھے خیال آیا کہ ڈاکٹروں کے تجربہ کے رو سے انجام ذیا بیطیس کا یا تو نزول الماء ہوتا ہے اور یا کار بنگل یعنی سرطان کا پھوڑا نکلتا ہے جو مہلک ہوتا ہے سواسی وقت نزول الماء کی نسبت مجھے الہام ہوا نزلت الرحمة على ثلث العين وعلى الاخريين ۔ یعنی تین عضو پر رحمت نازل کی گئی آنکھ اور دو اور عضو پر اور پھر جب کار بنکل کا خیال میرے دل میں آیا تو الہام ہوا السلام علیکم۔ سو ایک عمر گزری کہ میں ان بلاؤں سے محفوظ ہوں ۔ فالحمد لله ۔ ۱۶۷۔ نشان ۔ تخمیناً تیرہ برس ہوئے کہ جب مجھے سعد اللہ نو مسلم لر ہانوی کی نسبت الہام ہوا تھا ۔ اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ ۔ دیکھو انوار الاسلام در اشتہا ر انعامی دو ہزار روپیه صفحہ ۱۲ اس وقت ایک بیٹا سعد اللہ کا بعمر سولہ یا پندرہ برس کا موجود تھا بعد اس وحی کے باوجود گذر نے تیرہ برس کے ایک بچہ بھی اُس کے گھر میں نہیں ہوا اور پہلالڑ کا اُس کا بموجب الہام موصوف کے اس قابل نہیں کہ اس سے نسل جاری ہو سکے پیس ابتر کی پیشگوئی کا ثبوت ۱۳