حقیقةُ الوحی — Page 356
الله الله روحانی خزائن جلد ۲۲ ۳۵۶ حقيقة الوحى چو دیدم روئے تو دل در تو بستم توان برداشتن دست از دو عالم نمانده غیر تو اندر جهانم مگر ہجرت بسوزد استخوانم در آتش تن بآسانی توان داد ز ہجرت جان رود با صد فغانم _____ ۱۵۳ نشان ۔ مولوی محمد حسن بھیں والے نے میری کتاب اعجاز احمدی کے حاشیہ پر پر لعنت اللہ علی الکاذبین لکھ کر اپنے تئیں مباہلہ کے بیچ میں ڈال دیا چنانچہ اس تحریر پر ایک سال بھی نہیں گذرا تھا کہ بڑے دُکھ کے ساتھ اس جہان سے گذر گیا اور جواناں مرگ موت ہوئی اُسی کے ہاتھ کا لکھا ہوا مباہلہ ہمارے پاس موجود ہے جو چاہے دیکھ لے۔ ۱۵۴۔ نشان۔ پیر مہر علی شاہ گولڑی نے اپنی کتاب سیف چشتیائی میں مجھے چور کہا تھا یعنی اُس کے خیال میں میں نے دوسروں کی کتابوں کا مضمون چرا کر لکھا ہے اس افترا کی خدا نے اُس کو یہ سزا دی کہ عدالت میں کرم دین کے مقدمہ میں وہ خود محمد حسن بھیں کے نوٹوں کا چور ثابت ہوا چنانچہ عدالت میں اس بارہ میں حلفی شہادتیں گزر گئیں تب اس پر بھی الہام انی مهین من اراد اهانتک پورا ہو کر خدا تعالیٰ کا نشان ظاہر ہوا۔ ۱۵۵ نشان ۔ خدا تعالیٰ کا یہ بھی ایک نشان تھا کہ اُس نے ۱۸۸۲ء کے بعد باقی حصہ براہین احمدیہ کا تیس برس کی مدت تک چھپنے سے روک دیا تا اُس کا یہ کلام پورا ہو کہ میں براہین احمدیہ کو بطور نشان کے بناؤں گا کیونکہ اس میں بہت سی ایسی پیشگوئیاں تھیں جو ابھی اُن کا پورا ہونا معرض انتظار میں تھا اور اس میں میری نسبت ایسے وعدے تھے جو ابھی ظہور میں نہیں آئے تھے اور ضرور تھا کہ ان تمام نشانوں اور تمام وعدوں کا اُسی کتاب میں پورا ہونا دکھلایا جاتا تا کتاب براہین احمدیہ اسم با مسمی ہو جاتی ۔ اگر ان پیشگوئیوں کے پورا ہونے سے پہلے براہین احمد یہ ختم ہو جاتی تو وہ ایک ناقص کتاب ہوتی اس لئے خدا نے جس کے تمام کام حکمت اور مصلحت پر مبنی ہیں یہ چاہا کہ اس وقت تک براہین احمدیہ کے باقی حصہ کا چھپنا اور شائع ہونا ہ سہو کتابت معلوم ہوتا ہے ۔ اعجاز میں ہونا چاہیے کیونکہ مولوی محمحسن نے اعجاز می کے حاشیہ پری ان ال علی الکاذ میں لکھاتھا۔ (ناشر)