حقیقةُ الوحی — Page 352
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۳۵۲ حقيقة الوحى ۳۳۹ میں مجھے عیسی کے نام سے موسوم کرنے سے پہلے میرا نام مریم رکھا اور ایک مدت تک میرا نام خدا کے نزدیک یہی رہا اور پھر خدا نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ اے مریم میں نے تجھ میں سچائی کی روح پھونک دی گویا یہ مریم سچائی کی روح سے حاملہ ہوئی اور پھر خدا نے براہین احمد یہ کے اخیر میں میرا نام عیسی رکھ دیا گویا وہ سچائی کی روح جو مریم میں پھونکی گئی تھی ظہور میں آکر عیسی کے نام سے موسوم ہو گئی ۔ پس اس طرح پر میں خدا کی کلام میں ابن مریم کہلایا اور یہی معنی اس وحی الہی کے ہیں کہ الحمد لله الذی جعلك المسيح ابن مريم۔ آنکه گوید ابن مریم چون شدی هست او غافل از راز ایزدی آن خدائے قادر و رب العباد در براهین نام من مریم نهاد مدتی بودم برنگ مریمی ہمچو بکرے یافتم نشو و نما دست ناداده به پیران زمی از رفیق راه حق نا آشنا بعد از ان آن قادر و رب مجید روح عیسی اندران مریم دمید پس به نفخش رنگ دیگر شد عیان زاد زان مریم مسیح این زمان زین سبب شد ابن مریم نام من زانکه مریم بود اول گام من بعد از ان از نفخ حق عیسی شدم شد ز جائے مریمی برتر قدم این همه گفت است رب العالمین گر نمی دانی براہین را ببیں حکمت حق رازہا دارد بسے نکته مستور کم فہمد کسے فهم را فیضان حق باید نخست کار بے فیضان نمی آید درست گر نداری فیض رحمان را پناه ظلمتے در هر قدم داری براه فیض حق را با تضرع کن تلاش ہان مرو چوں تو سنے آہستہ باش اے پئے تکفیر ما بستہ کمر صد هزاران کفر در جانت نهان خانه ات ویران تو در فکر دگر رو چه نالی بہر کفر دیگران