حقیقةُ الوحی — Page 338
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۳۳۸ حقيقة الوحى ۳۲۵ پایا اس لئے بہت دعا کی گئی آخر دعا منظور ہوئی چنانچہ ۱۲ استمبر ۱۹۰۶ء کو اسی میاں نور احمد کا خط مجھ کو بذریعہ ڈاک جو فتح یابی مقدمہ کی نسبت تھا پہنچا جو ذیل میں لکھا جاتا ہے اور وہ یہ ہے: بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ حضرت مرشدنا و مولانا جناب مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام - السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاته بعد ادائے آداب غلامانہ عرض ہے کہ جو مقدمہ جھوٹا پٹھا نہ کملانہ نے ہمارے غریب دوست مستمی قاسم و رستم و لعل وغیرہ پر دائر کیا ہوا تھا وہ مقدمہ خدا کے فضل با ہوا تھا وہ مقدمہ خدا کے فضل سے آپ کی دعاؤں کی برکت سے ۳۱ را گست ۱۹۰۶ء کو فتح ہو گیا ہے آپ کو مبارک ہو۔ سبحان اللہ خدائے پاک نے اپنے پیارے امام کی دعاؤں کو قبول فرمایا اور سرافراز کیا اور ہمارے ایمان میں ایزادی ہوئی ہم اس احکم الحاکمین کے فضلوں کا شکر ادا نہیں کر سکتے ۔ را قم بنده نور احمد مدرس مدرسه امدادی بستی و ریام کملانہ ڈاکخانہ ڈب کلاں تحصیل شورکوٹ ضلع جھنگ ۱۴۲۔ نشان ۔ میرے ایک صادق دوست اور نہایت مخلص جن کا نام ہے سیٹھ عبدالرحمن تاجر مدراس اُن کی طرف سے ایک تار آیا کہ وہ کار بنکل یعنی سرطان کی بیماری سے جو ایک مہلک پھوڑا ہوتا ہے بیمار ہیں چونکہ سیٹھ صاحب موصوف اول درجہ کے مخلصین میں سے ہیں اس لئے ان کی بیماری کی وجہ سے بڑا فکر اور بڑا تر ڈ دہوا قریباً نو بجے دن کا وقت تھا کہ میں غم اور فکر میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک دفعہ غنودگی ہو کر میرا سر نیچے کی طرف جھک گیا اور معاً خدائے عز وجل کی طرف سے وحی ہوئی کہ آثار زندگی ۔ بعد اس کے ایک اور تار مدراس سے آیا کہ حالت اچھی ہے کوئی گھبراہٹ نہیں لیکن پھر ایک اور خط آیا کہ جو اُن کے بھائی صالح محمد مرحوم کے ہاتھ کا لکھا ہوا تھا جس کا یہ مضمون تھا کہ سیٹھ صاحب کو پہلے اس سے ذیا بیطس کی بھی شکایت تھی چونکہ ذیا بیطیس کا کار بنکل اچھا ہونا قریباً محال ہے اس لئے دوبارہ