حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 10 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 10

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۱۰ حقيقة الوحى میں خدا کی قبولیت اور محبت اور فضل کے کچھ آثار نہیں ہوتے اور نہ ایسے لوگ نفسانی نجاستوں سے پاک ہوتے ہیں اور خوا ہیں محض اس لئے آتی ہیں کہ تا اُن پر خدا کے پاک نبیوں پر ایمان لانے کے لئے ایک حجت ہو کیونکہ اگر وہ سچی خوابوں اور سچے الہامات کی حقیقت سمجھنے سے قطعاً محروم ہوں اور اس بارے میں کوئی ایسا علم جس کو علم الیقین کہنا چاہیے ان کو حاصل نہ ہو تو خدا تعالیٰ کے سامنے اُن کا عذر ہو سکتا ہے کہ وہ نبوت کی حقیقت کو سمجھ نہیں سکتے تھے کیونکہ اس کو چہ سے بکلی نا آشنا تھے اور وہ کہہ سکتے ہیں کہ نبوت کی حقیقت سے ہم محض بے خبر تھے اور اس کے سمجھنے کے لئے ہماری فطرت کو کوئی نمونہ نہیں دیا گیا تھا۔ پس ہم اس مخفی حقیقت کو کیونکر سمجھ سکتے اس لئے سنت اللہ قدیم سے اور جب سے دنیا کی بناڈالی گئی اس طرح پر جاری ہے کہ نمونہ کے طور پر عام لوگوں کو قطع نظر اس سے کہ وہ نیک ہوں یا بد ہوں اور صالح ہوں یا فاسق ہوں اور مذہب میں سچے ہوں یا جھوٹا مذہب رکھتے ہوں کسی قدر سچی خوابیں دکھلائی جاتی ہیں یا سچے الہام بھی دیئے جاتے ہیں تا اُن کا قیاس اور گمان جو محض نقل اور سماع سے حاصل ہے علم الیقین تک پہنچ جائے اور تا روحانی ترقی کیلئے اُن کے ہاتھ میں کوئی نمونہ ہو۔ اور حکیم مطلق نے اس مدعا کے پورا کرنے کیلئے انسانی دماغ کی بناوٹ ہی ایسی رکھی ہے اور ایسے روحانی قومی اس کو دیئے ہیں کہ وہ بعض سچی خوا ہیں دیکھ سکتا ہے اور بعض سچے الہام پاسکتا ہے مگر وہ سچی خوا ہیں اور سچے الہام کسی وجاہت اور بزرگی پر دلالت نہیں کرتے بلکہ وہ محض نمونہ کے طور پر ترقی کیلئے ایک راہیں ہوتی ہیں ۔ اور اگر ایسی خوابوں اور ایسے الہاموں کو کسی بات پر کچھ دلالت ہے تو صرف اس بات پر کہ ایسے انسان کی فطرت صحیح ہے بشرطیکہ جذبات نفسانیہ کی وجہ سے انجام بد نہ ہو اور ایسی فطرت سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ ، یہ سمجھا جاتا ہے کہ اگر درمیان میں روکیں او میں روکیں اور حجاب پیش نہ آجائیں تو وہ ترقی کر سکتا ہے جیسے مثلاً ایک زمین ہے جس کی نسبت بعض علامات سے ہمیں معلوم ہو گیا ہے کہ علم تین قسم پر ہوتا ہے (۱) ایک علم الیقین جیسا کہ کوئی دور سے دُھواں دیکھ کر یہ قیاس کرے کہ اس جگہ ضرور آگ ہوگی (۲) دوسرا عین الیقین جیسا کہ کوئی اُس آگ کو اپنی آنکھ سے دیکھ لے (۳) تیسرا حق الیقین جیسا کہ کوئی اُس آگ میں ہاتھ ڈال کر اُس کی گرمی محسوس کرلے۔ منہ ☆