حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 319 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 319

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۳۱۹ حقيقة الوحى نکل گیا تھا کہ پانچ روپے آئے ہیں اور ساتھ اس کے منشی الہی بخش صاحب اکونٹنٹ کا ایک ۳۰۶ کارڈ بھی تھا اور یہ روپیہ ۶ ستمبر ۱۸۸۳ ء کو پہنچا تھا جس دن یہ الہام ہوا۔ پس اس مبارک دن کی یادداشت کے لئے اور نیز آریوں کو گواہ بنانے کے لئے ایک روپیہ کی شیرینی تقسیم کی گئی جس کو ایک آریہ لایا اور آریوں کو اور نیز دوسروں کو دی گئی تا اگر یوں نہیں تو شیرینی کھا کر ہی اس نشان کو یاد رکھیں ۔ ۱۳۵ نشان ۔ ایک دفعہ بباعث مرض ذیا بیطس جو قریباً بین سال سے مجھے دامن گیر ہے آنکھوں کی بصارت کی نسبت بہت اندیشہ ہوا کیونکہ ایسے امراض میں نزول الماء کا سے تسلی اور سخت خطرہ ہوتا ہے تب خدا تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم ۔ نے فضل و کرم سے مجھے اپنی اس وحی سے تو اطمینان اور سکینت بخشی اور وہ وحی یہ ہے نزلت الرحمة على ثلث۔ العين وعلى الأخريين یعنی تین اعضاء پر رحمت نازل کی گئی ۔ ایک آنکھیں اور دو اور عضو اور اُن کی تصریح نہیں کی ۔ اور میں خدا تعالیٰ اتعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جیسا کہ پندرہ میں برس کی عمر میں میری بینائی تھی ایسی ہی اس عمر میں بھی کہ قریب ستر برس تک پہنچ گئی ہے وہی بینائی ہے سو یہ وہی رحمت ہے جس کا وعدہ خدا تعالیٰ کی وحی میں دیا گیا تھا۔ ۲۰ ۱۳۶ نشان۔ مجھے دماغی کمزوری اور دوران سر کی وجہ سے بہت سی نا طاقتی ہو گئی تھی یہاں تک کہ مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ اب میری حالت بالکل تالیف تصنیف کے لائق نہیں رہی اور ایسی کمزوری تھی کہ گویا بدن میں روح نہیں تھی ۔ اس حالت میں مجھے الہام ہوا تُرَدُّ الیک انوار الشباب یعنی جوانی کے نور تیری طرف واپس کئے ۔ بعد اس کے چند روز میں ہی مجھے محسوس ہوا کہ میری گم شدہ قوتیں پھر واپس آتی جاتی ہیں ۔ اور تھوڑے دنوں کے بعد مجھ میں اس قدر طاقت ہو گئی کہ میں ہر روز دود و جز و نو تالیف کتاب کو اپنے ہاتھ سے لکھ سکتا ہوں اور نہ صرف لکھنا بلکہ سوچنا اور فکر کرنا جونئی تالیف ۲۲