حقیقةُ الوحی — Page 315
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۳۱۵ حقيقة الوحى لیکن تاہم اپنے خدا پر میرا پختہ ایمان تھا اور مجھے یقین تھا کہ خدا کوئی نظارۂ قدرت دکھلا ۔ اور ممکن ہے کہ بری ہو ۔ ہے کہ بری ہونے کے بعد پھر ماخوذ ہو جائے مگر ائے مگر یہ مجھے خبر نہ تھی کہ خود یہ سے خبر نہ تھی کہ خود یہ خبر بریت ہی گا ایک بناوٹ ہے۔ بعد اس کے ایسا اتفاق ہوا کہ صبح کے وقت آٹھ بجے کے قریب بٹالہ کا ۳۰۲ ایک تحصیل دار حافظ ہدایت علی نام جس کا پہلے بھی ذکر ہو چکا ہے بطور دورہ قادیان میں آیا کیونکہ قادیان تحصیل بٹالہ کے متعلق ہے اور وہ ہمارے مکان پر آگیا اور ابھی گھوڑے پر سے نہیں اتر اتھا کہ چند ہندو جیسا کہ ان کی رسم ہے اُس کو سلام کرنے کے لئے آگئے اور اُن میں بسمبر داس بھی تھا تب تحصیلدار نے بسمبر داس کو دیکھ کر کہا کہ بسمبر داس ہم اس سے خوش ہوئے کہ تم نے قید سے رہائی پائی مگر افسوس کہ تم بری نہ ہوئے ۔ میں نے تو اس بات کو سنتے ہی سجدہ شکر کیا اور فی الفور شرمیت کو بلایا کہ تو کس لئے اتنی مدت تک میرے پاس جھوٹ بولتا رہا کہ بسمبر داس بری ہو گیا اور مجھے ناحق دکھ دیا۔ اُس نے جواب دیا کہ ایک معذوری کی وجہ سے یہ جھوٹ بولنا پڑا اور وہ یہ ہے کہ ہماری قوم میں رشتوں اور ناطوں کے وقت ادنی ادنیٰ باتوں میں نکتہ چینیاں ہوتی ہیں اور کسی بد چلنی کے ثابت ہونے سے لڑکیاں ملنی مشکل ہو جاتی ہیں سو اسی معذوری سے میں خلاف واقعہ کہتا رہا اور خلاف واقعہ شہرت دی۔ ۱۳۲ نشان ۔ میں پہلے لکھ چکا ہوں کہ ۴ را پریل ۱۹۰۵ء کے زلزلہ کے وقت ہم مع اپنے تمام اہل و عیال کے باغ میں چلے گئے تھے اور ایک میدان ہماری زمین کا جس میں پانچ ہزار آدمی کی گنجائش ہو سکتی تھی ہم نے سونے کے لئے پسند کیا اور اس میں دو خیمے لگائے اور ارد گر د قناتوں سے پردہ کرا دیا مگر پھر بھی چوروں کا خطرہ تھا کیونکہ جنگل تھا اس کے قریب ہی بعض دیہات میں نامی چور رہتے ہیں جو کئی مرتبہ سزا پا چکے ہیں ایک مرتبہ رات کو میں نے خواب میں دیکھا کہ میں پہرہ کے لئے پھرتا ہوں جب میں چند قدم گیا تو ایک شخص مجھے ملا اور اُس نے کہا کہ آگے فرشتوں کا پہرہ ہے یعنی تمہارے پہرہ کی کچھ ضرورت نہیں