حقیقةُ الوحی — Page 311
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۳۱۱ حقيقة الوحى نے اپنی دلجوئی اس کارروائی میں خود مان لی ہے اور گورنمنٹ کا بے انتہا شکر کیا ہے۔ اور یہ میری پیشگوئی صرف ہمارے رسالہ ریویو آف ریلیجنز میں ہی شائع نہیں ہوئی تھی بلکہ پنجاب کے بہت سے اخباروں نے اس کو شائع کیا تھا یہاں تک کہ خود بنگالہ کے بعض نامی ۲۹۸ اخباروں نے اس پیشگوئی کو شائع کر دیا تھا۔ اور ایک اور دلیل اس بات پر کہ یہ پیشگوئی پوری ہوگئی ہے یہ ہے کہ امرت بازار پتر کا کلکتہ کا انگریزی اخبار جو بنگالیوں کا سب سے زیادہ مشہور اخبار ہے لکھتا ہے جس کے فقرہ ذیل کو اخبار رسول اینڈ ملٹری گزٹ لاہور نے ۲۲ را گست ۱۹۰۶ء کی اشاعت میں درج کیا ہے اور وہ یہ ہے۔ ” یہ اغلب ہے کہ اس کا یعنی فکر کا جانشین ( نیا لفٹنٹ گورنر ) خاص دلجوئی کی پالیسی اختیار کرے گا۔ اس میں شک نہیں کہ یہ عین ہمارے مقصد کے مطابق ہے۔“ اخبار مذکور کے اس فقرہ سے بھی ظاہر ہے کہ اُس نے اس بارہ میں اپنی اطمینان ظاہر کی ہے کہ ضرور ہی لفٹنٹ گورنر کا یہ فرض ہوگا کہ بنگالیوں کی دلجوئی کرتا رہے۔ پس اخبار مذکور بھی پیشگوئی کے پورا ہونے کی ایک شہادت ہے۔ پھر آخر میں ہم اس پیشگوئی کے پورا ہونے پر ایک اور زبردست دلیل لکھتے ہیں اور وہ یہ کہ ایک انگریز افسر جو پچاس سال گور پاس سال گورنمنٹ کے ایک ممتاز عہدہ پر رہا ہے اخبار سول اینڈ ۵۰ - ملٹری گزٹ لاہور مورخہ ۲۴ را گست ۱۹۰۶ء میں ایک لمبی چٹھی کے اثناء میں جس میں یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ سرفکر کا استعفیٰ عین بنگالی بابوؤں کے منشاء کے مطابق ہے لکھتا ہے اس میں کچھ شک نہیں کہ اُس کے یعنی فکر کے جانشین کو یہ حکم ( حکام بالا سے ملا ہے اور اُس نے اُس کو قبول کیا ہے کہ شر انگیز بابوؤں کے ساتھ دلجوئی کا طریق اختیار کرے۔ اب دیکھو کہ کسی صفائی سے یہ پیشگوئی پوری ہو گئی خدا تازہ بتازہ اپنے نشان دکھلاتا جاتا ہے آہ! کیسے غافل دل ہیں کہ پھر قبول نہیں کرتے ہم ان متواتر نشانوں سے ایسے