حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 7 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 7

روحانی خزائن جلد ۲۲ حقيقة الوحى دیکھتے ہیں۔ پس یہی وہ امر ہے جس نے مجھے اس بات پر آمادہ کیا کہ میں اس فرق کو حق کے طالبوں پر ظاہر کروں۔ سو میں اس کتاب کو چار باب پر منقسم کرتا ہوں۔ باب اول اُن لوگوں کے بیان میں جن کو بعض سچی خوا میں آتی ہیں یا بعض بچے الہام ہوتے ہیں لیکن اُن کو خدا تعالیٰ سے کچھ بھی تعلق نہیں۔ باب دوم ان لوگوں کے بیان میں جن کو بعض اوقات سچی خوا میں آتی ہیں یا سچے الہام ہوتے ہیں اور ان کو خدا تعالیٰ سے کچھ تعلق تو ہے لیکن بڑا تعلق نہیں۔ باب سوالم اُن لوگوں کے بیان میں جو خدا تعالیٰ سے اکمل اور اصلی طور پر وحی پاتے ہیں اور کامل طور پر شرف مکالمہ اور مخاطبہ ان کو حاصل ہے اور خوا میں بھی اُن کو فلق الصبح کی طرح کچی آتی ہیں اور خدا تعالیٰ سے اکمل اور اتم اور اصلی تعلق رکھتے ہیں جیسا کہ خدا تعالی ۵ کے پسندیدہ نبیوں اور رسولوں کا تعلق ہوتا ہے۔ باب چہارم اپنے حالات کے بیان میں یعنی اس بیان میں کہ خدا تعالیٰ کے فضل اور کرم نے مجھے ان اقسام ثلاثہ میں سے کس قسم میں داخل فرمایا ہے۔ اب ہم اس مضمون کو ذیل کے ہر چہار باب میں لکھتے ہیں وما توفیقی الا بالله۔ ربنا اهدنا صراطك المستقيم، وهب لنا من عندك فهم الدين القويم۔ وعلّمنا من لدنك علما (آمین) باب اول ہیں اُن لوگوں کے بیان میں جن کو بعض سچی خوا میں آتی ہیں یا بعض سچے الہام ہوتے ہیں لیکن اُن کو خدا تعالیٰ سے کچھ بھی تعلق نہیں اور اُس روشنی سے اُن کو ایک ذرہ حصہ نہیں ملتا حصہ نہیں ملتا جو اہل تعلق پاتے اور نفسانی قالب اُن کا تعلق نور سے ہزار ہا کوس دور ہوتا ہے واضح ہو کہ چونکہ انسان اس مطلب کے لئے پیدا کیا گیا ہے کہ اپنے پیدا کرنے والے کو شناخت کرے اور اُس کی ذات اور صفات پر ایمان لانے کیلئے یقین کے درجہ تک پہنچ سکے اس لئے خدا تعالیٰ نے انسانی دماغ کی بناوٹ کچھ ایسی رکھی ہے کہ ایک طرف تو معقولی طور پر ایسی قوتیں اس کو عطا کی گئی ہیں جن کے