حقیقةُ الوحی — Page 280
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۲۸۰ حقيقة الوحى ☆ دو پہر کا وقت تھا کہ یہ سلسلہ الہام دیوار کے مقدمہ کی نسبت شروع ہوا۔ میں نے سید صاحب کو کہا کہ یہ دیوار کے مقدمہ کی نسبت الہام ہے ۔ آپ جیسا جیسا یہ الہام ہوتا جائے لکھتے جائیں چنانچہ انہوں نے قلم دوات اور کاغذ لے لیا۔ پس ایسا ہوا کہ ہر ایک دفعہ غنودگی کی حالت طاری ہو کر ایک ایک فقرہ وحی الہی کا جیسا کہ سنت اللہ ہے زبان پر نازل ہوتا تھا اور جب ایک فقرہ ختم ہو جاتا تھا اور لکھا جاتا تھا تو پھر غنودگی آتی تھی اور ۲۶۸) دوسرا فقرہ وحی الہی کا زبان پر جاری ہوتا تھا یہاں تک کہ کل وحی الہی نازل ہو کر سید فضل شاہ صاحب لاہوری کی قلم سے لکھی گئی اور اس میں تفہیم ہوئی کہ یہ اس و ہوئی کہ یہ اس دیوار کے متعلق ہے جو امام الدین نے کھینچی ہے جس کا مقدمہ عدالت میں دائر ہے اور یہ تفہیم ہوئی کہ انجام کار اس مقدمہ میں فتح ہو گی چنانچہ میں نے اپنی ایک کثیر جماعت کو یہ وحی الہی سنا دی اور اس کے معنے اور شان نزول سے اطلاع دے دی اور اخبار الحکم میں چھپوا دیا اور سب کو کہہ دیا کہ اگر چہ مقدمہ اب خطرناک اور صورت نومیدی کی ہے مگر آخر خدا تعالیٰ کچھ ایسے اسباب پیدا کر دے گا جس میں ہماری فتح ہوگی کیونکہ وحی الہی کا خلاصہ مضمون یہی تھا اب ہم اس وحی الہی کو معہ ترجمہ ذیل میں لکھتے ہیں اور وہ یہ ہے : * الرحى تدور وينزل القضاء۔ ان فضل الله لأت وليس لاحد ان يرد ما اتي قل اى وربي انه لحق لا يتبدل ولا يخفى۔ وينزل ما تعجب منه۔ حاشیہ : وحی الہی کے نزول کے وقت کی غنودگی بھی ایک خارق عادت امر ہے یہ جسم کے طبعی اسباب سے پیدا نہیں ہوتی بلکہ جہاں تک ضرورتوں کا سامان پیش ہو ہر ایک ضرورت اور دعا کے وقت محض قدرت سے غنودگی پیدا ہو جاتی ہے۔ مادی اسباب کا کچھ بھی اس میں دخل نہیں ہوتا ۔ پس اس سے آریہ سماج والوں کے مذہب کا بطلان ثابت ہوتا ہے کیونکہ وہ انسانی زندگانی اور تمام عوارض کا سلسلہ مادی اسباب تک ہی محدود رکھتے ہیں تبھی تو وہ نیستی سے ہستی ہونے کے قائل نہیں اور ان کے نزدیک ہر ایک چیز کے ظہور کے لئے مادی اسباب کا موجود ہونا ضروری ہے پس اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ وہ وحی الہی کے بھی منکر ہیں ۔ منہ عجب بات ہے کہ اس الہام میں بشارت فضل کے لفظ سے شروع ہوتی ہے اور جس کے ہاتھ سے بروقت نزول یہ وحی قلمبند کرائی گئی اس کا نام بھی فضل ہے ۔ منہ نوٹ ۔ ایڈیشن اول میں مندرجہ بالا حواشی کی ترتیب میں سہو واقع ہوا ہے جو یہاں درست کر دیا گیا ہے۔ (ناشر)