حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 277 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 277

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۲۷۷ حقيقة الوحى اس کو سخت حیران کر دیا اور اُس نے میری طرف رقعہ لکھا کہ یہ سب باتیں آپ کی نیک بختی (۲۶۵) کی وجہ سے پوری ہو گئیں ۔ افسوس کہ اُس نے پھر بھی اسلام کے نور سے کچھ فائدہ نہ اٹھایا اور آجکل وہ آریہ ہے اور ہدایت تو ایک طرف مجھے تو ان لوگوں پر اتنی بھی اُمید نہیں کہ وہ سچی گواہی دے سکیں اگر چہ بظاہر یہی لاف و گزاف ہے کہ ہم ہے کہ سچائی کی حمایت کرنی چاہیے مگر اس پر عمل نہیں ہاں میں یقین رکھتا ہوں کہ اگر ایسے گواہ یعنی شرمیت کو حلف دی جائے اور حلف میں جھوٹ کی حالت میں اولاد پر اثر پڑنے کا اقرار کرایا جائے تو پھر ضرور سچ بول دے گا۔ میری کئی پیشگوئیوں کی گواہیاں اس کے پاس ہیں ممکن ہے کہ پیچھا چھڑانے کے لئے یہ کہہ دے کہ مجھے یاد نہیں مگر حلف ایک ایسی چیز ہے کہ ضرور اس سے یاد آ جائے گا۔ اور اگر جھوٹ بولے گا تو یقیناً یا درکھو کہ میرا خدا اسے سزا دے گا اور یہ بھی ایک نشان ظاہر ہوگا وہ کھلے کھلے تو نشانوں کا گواہ ہے۔ میں خدائے قادر کا شکر کرتا ہوں کہ میرے نشانوں کے صرف مسلمان ہی گواہ نہیں بلکہ دنیا میں جس قدر قو میں ہیں وہ سب میرے نشانوں کی گواہ ہیں ۔ فالحمد للہ علی ذلک۔ ۱۱۷۔ نشان ۔ ایک دفعہ ایک آریہ ملا وامل نام مرض دق میں مبتلا ہو گیا اور آثار نو میدی ظاہر ہوتے جاتے تھے اور اُس نے خواب میں دیکھا کہ ایک زہریلا سانپ اُس کو کاٹ گیا وہ ایک دن اپنی زندگی سے نومید ہو کر میرے پاس آکر رویا میں نے اُس کے حق میں دعا کی تو جواب آیا قلنا یا نارگونی بردًا وسلامًا یعنی ہم نے تپ کی آگ کو کہا کہ سرد اور سلامتی ہو جا۔ چنانچہ بعد اس کے وہ ایک ہفتہ میں اچھا ہو گیا اور اب تک زندہ موجود ہے۔ دیکھو براہین احمد یہ صفحہ ۲۲۷ مگر یقین ہے کہ اُس کی گواہی کے لئے بھی حلف کی ضرورت پڑے گی ۔ ۱۱۸۔ نشان ۔ ایک دفعہ جب میں گورداسپور میں ایک فوج داری مقدمہ کی وجہ سے ( جو کرم دین جہلمی نے میرے پر دائر کیا تھا) موجود تھا مجھے الہام ہوا یسئلونک عن شانک۔ قل الله ثم ذرهم في خوضهم يلعبون يعني تیری شان کے بارہ میں پوچھیں گے کہ تیری کیا شان اور کیا مرتبہ ہے۔ کہہ وہ خدا ہے جس نے مجھے یہ مرتبہ بخشا ہے پھر ان کو اپنی لہو ولعب