حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 247 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 247

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۲۴۷ حقيقة الوحى پاس بچھی تھی۔ میں نے بے تابی کی حالت میں اُس چار پائی کی پائینتی پر اپنا سر رکھ دیا اور تھوڑی سی نیند آگئی ۔ جب میں بیدار ہوا تو دردکا نام و نشان نہ تھا اور زبان پر یہ الہام جاری تھا: اذا مرضت فهو يشفىی یعنی جب تو بیمار ہوتا ہے تو وہ تجھے شفا دیتا ہے فالحمد للہ علی ذالک ۔ ۸۷ ستاسیواں نشان ۔ یہ پیشگوئی ہے کہ میری اس شادی کے بارہ میں جو دہلی میں ہوئی تھی خدا تعالیٰ کی طرف سے مجھے یہ الہام ہوا تھا۔ الــحــمــد لله الذي جعل لكم الصهر والنسب ۔ یعنی اس خدا کو تعریف ہے جس نے تمہیں دامادی اور نسب دونوں طرف سے عزت دی یعنی تمہاری نسب کو بھی شریف بنایا اور تمہاری بیوی بھی سادات میں سے آئے گی ۔ یہ الہام شادی کے لئے ایک پیشگوئی تھی جس سے مجھے یہ فکر پیدا ہوا کہ شادی کے اخراجات کو کیوں کر میں انجام دوں گا کہ اس وقت میرے پاس کچھ نہیں اور نیز کیونکر میں ہمیشہ کے لئے اس بوجھ کا متحمل ہو سکوں گا تو میں نے جنار نے جناب الہی میں دعا کی کہ ان اخراجات کی مجھ میں طاقت نہیں ۔ تب یہ الہام ہوا کہ هر چه باید نو عروسی را همہ ساماں کنم و آنچه در کار شما باشد عطائے آں کنم یعنی جو کچھ کہیں شادی کے لئے درکار ہوگا تمام با تمام سامان اس کا میں آپ کروں گا اور جو کچھ تمہیں وقتا فوقتا حاجت ہوتی رہے گی آپ دیتا رہوں گا۔ چنانچہ ایسا ہی ظہور میں آیا شادی کے لئے جو کسی قدر مجھے روپیہ درکار تھا اُن ضروری اخراجات کے لئے منشی عبدالحق صاحب اکاؤنٹنٹ لاہور نے پانچ سو روپیہ مجھے قرضہ دیا اور ایک اور صاحب حکیم محمد شریف نام ساکن کلانور نے جو امرتسر میں طبابت کرتے تھے دوسو روپیہ یا تین سو روپیہ مجھے بطور قرضہ دیا۔ اُس وقت منشی عبدالحق صاحب اکاؤنٹنٹ نے مجھے کہا کہ ہندوستان میں شادی کرنا ایسا ہے جیسا کہ ہاتھی کو اپنے دروازہ پر باندھنا۔ میں نے اُن کو جواب دیا کہ ان اخراجات کا خدا نے خود وعدہ فرما دیا ہے پھر شادی کرنے کے بعد سلسلہ فتوحات کا شروع ہو گیا اور یا وہ زمانہ تھا که باعث تفرقہ وجوہ معاش پانچ سات آدمی کا خرچ بھی میرے پر ایک بوجھ تھا اور یا اب وہ وقت آگیا کہ بحساب اوسط تین سو آدمی ہر روز مع عيال و اطفال اور ساتھ اس کے ۳۰۰ ۲۳۶