حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 216 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 216

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۲۱۶ حقيقة الوحى کسی کی بھی پروانہیں کی اور ان خشک ملاؤں کو ایسے دندان شکن جواب دئے کہ وہ ساکت ہو گئے اور خدا تعالیٰ کے فضل سے آپ کا خاتمہ مصدق ہونے کی حالت میں ہوا چنانچہ وہ خطوط جو آپ نے میری طرف لکھے اُن سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے کس قدر میری محبت اُن کے دل میں ڈال دی تھی اور کس قدر اپنے فضل سے میرے بارہ میں اُن کو معرفت بخش دی تھی ۔ خواجہ صاحب نے اپنی کتاب اشارات فریدی میں مخالفوں کے حملوں کا جابجا جواب دیا ہے جیسا کہ ایک جگہ اشارات فریدی میں لکھا ہے کہ کسی نے خواجہ صاحب موصوف کی خدمت میں عرض کی کہ آٹھم میعاد کے بعد مرا انہوں نے میرا نام لے کر فرمایا کہ اس بات کی کیا پروا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ آتھم انہیں کے نفس سے مرا ہے یعنی انہیں کی توجہ اور عقد ہمت نے آتھم کا خاتمہ کر دیا ہے اور کسی نے میری نسبت آپ کو کہا کہ ہم اُن کو مہدی معہود کیونکر مان لیں کیونکہ مہدی موعود کی ساری علامتیں جو حدیثوں میں لکھی ہیں اُن میں پائی نہیں جاتیں ۔ تب خواجہ صاحب اس کلمہ پر ناراض ہوئے اور فرمایا کہ یہ تو کہو کہ تمام قرار داده نشان جو لوگوں نے پہلے سے سمجھ رکھے تھے کسی نبی یا رسول میں سب کے سب پائے گئے اگر ایسا وقوع میں آتا تو کیوں بعض کافر رہتے اور بعض ایمان لاتے۔ یہی سنت اللہ ہے کہ جو جو علامتیں پیشگوئیوں میں کسی آنے والے نبی ☆ ۱۵ میں بار بار لکھ چکا ہوں کہ آتھم کی نسبت جو پیشگوئی تھی وہ اپنے مفہوم کے مطابق پوری ہوگئی ۔ اگر آتھم لوگوں کے روبرو جو ساٹھ یا ستر تھے دجال کہنے سے رجوع نہ کرتا تو اس وقت کہہ سکتے تھے کہ پیشگوئی پوری نہ ہوئی مگر جبکہ آتھم نے رجوع کر لیا تو ضرور تھا کہ وہ شرط کا فائدہ اُٹھاتا بلکہ اگر آتھم با وجود اس قدر رجوع کے جو اس نے اپنی عزت اور حشمت کی کچھ پروا نہ کر کے عیسائیوں کے مجمع میں ہی رجوع کیا پھر بھی پندرہ مہینہ کے اندر مر جاتا تو خدا تعالیٰ کے وعدہ پر اعتراض ہوتا تب کہہ سکتے کہ پیشگوئی پوری نہیں ہوئی مگر اب باوجو د رجوع کے پھر اعتراض کرنا اُن لوگوں کا کام ہے جن کو دین اور دیانت سے کچھ سروکار نہیں ۔ ہاں جب آتھم پندرہ مہینہ کے گذرنے کے بعد شوخ چشم ہو گیا اور خدا تعالیٰ کے احسان کا شکر گزار نہ رہا تب ایک دوسری پیشگوئی کے مطابق میرے آخری اشتہار سے پندرہ مہینہ کے اندر مر گیا۔ بہر حال اس کی موت پندرہ مہینہ سے باہر نہ نکل سکی۔ چنانچہ ایک عقل مند نے باوجود عیسائی ہونے کے اقرار کیا ہے کہ آتھم کی نسبت جو پیشگوئی تھی وہ نہایت صفائی سے پوری ہوگئی اور انکار ہٹ دھرمی ہے۔ منہ