حقیقةُ الوحی — Page 206
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۲۰۶ حقيقة الوحى جیسا کہ قرآن شریف میں لکھا ہے وَ إِذَا الْعِشَارُ عَظِلَت کے یعنی آخری زمانہ وہ ہے جب اونٹنیاں بیکار ہو جائیں گی ۔ اور ایسا ہی حدیث مسلم میں ہے ولیتركن القلاص فلا يسعى عليها ۔ یعنی اس زمانہ میں اونٹنیاں بے کار ہو جائیں گی اور کوئی اُن پر سفر نہیں کرے گا۔ ایام حج میں مکہ معظمہ سے مدینہ منورہ کی طرف اونٹنیوں پر سفر ہوتا ہے۔ اب وہ دن بہت قریب ہے کہ اس سفر کے لئے ریل تیار ہو جائے گی تب اس سفر پر یہ صادق آئے گا کہ ليتركن القلاص فلا يسعى عليها ۔ - پانچواں نشان ۔ حج کا بند ہونا ہے جو صحیح حدیث میں آچکا ہے کہ مسیح موعود کے وقت میں حج کرنا کسی مدت تک بند ہو جائے گا۔ سو بباعث طاعون ۹۹ء و ۱۹۰۰ء وغیرہ میں یہ نشان بھی ظہور میں آگیا۔ ۶ ۔ چھٹا نشان ۔ کتابوں اور نوشتوں کا بکثرت شائع ہونا جیسا کہ آیت وَإِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْ ۔ سے معلوم ہوتا ہے کیونکہ بباعث چھاپا ، چھاپہ کی کلوں کے جس قدر اس زمانہ میں کثرت اشاعت کتابوں کی ہوئی ہے اس کے بیان کی ضرورت نہیں۔ ے۔ ساتواں نشان ۔ کثرت سے نہریں جاری کئے جانا جیسا کہ آیت وَإِذَا الْبِحَارُ فُجْرَتْ سے سے ظاہر ہوتا ہے پس اس میں کیا شک ہے کہ اس زمانہ میں اس کثرت سے نہریں جاری ہوئی ہیں۔ جن کی کثرت سے دریا خشک ہوئے جاتے ہیں۔ آٹھواں نشان نوع انسان کے باہمی تعلقات کا بڑھنا اور ملاقاتوں کا طریق سہل ہو جانا ہے جیسا کہ آیت وَإِذَا النُّفُوسُ زُوجَتْ " سے ظاہر ہے سو بذریعہ ریل اور تار کے یہ امر ایسا ظہور میں آیا ہے کہ گویا دنیا بدل گئی ہے۔ ۹۔ نواں نشان۔ زلزلوں کا متواتر آنا اور سخت ہونا ہے جیسا کہ آیت يَوْمَ تَرْجُفُ کا (1) الرَّاجِفَةُ تَتْبَعُهَا الرَّادِفَةُ ۔ سے ظاہر ہے سو غیر معمولی زلزلے دنیا میں آرہے ہیں ۔ ۱۰۔ دسواں نشان۔ طرح طرح کی آفات سے اس زمانہ میں انسانوں کا کثرت سے ہلاک ہونا ہے جیسا کہ قرآن شریف کی اس آیت کا مطلب ہے وَ إِنْ مِنْ قَرْيَةٍ إِلَّا نَحْنُ مُهْلِكُوهَا قَبْلَ يَوْمِ الْقِيمَةِ أَوْ مُعَذِّبُوهَا ترجمہ: کوئی ایسی بستی نہیں جس کو ہم قیامت سے کچھ مدت پہلے ہلاک نہیں التكوير : ۲۵ التكوير : ١١ ٣ الانفطار : التكوير : ۸ ۵ النازعات: ۷، ۸ ۲ بنی اسرائیل: ۵۹