حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 192 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 192

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۱۹۲ حقيقة الوحى ۱۸۵) بھی ہوتے ہوں گے مگر یہ ہم قبول نہیں کر سکتے کہ یہ شیطانی خواب ہے کیونکہ شیطان کو کسی کے ہلاک کرنے کے لئے قدرت نہیں دی گئی۔ ہاں شیطانی خوا ہیں اور شیطانی الہام وہ ہیں جو آب میری مخالفت کی حالت میں اُس کو ہوتے ہیں کیونکہ اُن کے ساتھ کوئی نمونہ خدائی طاقت کا نہیں سو اُس کو کوشش کرنی چاہیے کہ شیطان اُس سے دور ہو جائے۔ اور منجملہ امور قابل تذکرہ کے ایک یہ ہے کہ عبدالحکیم خان نے اپنے رسالہ المسیح الدجال میں دوسرے مخالفوں کی طرح عوام کو یہ دھو کہ دینا چاہا ہے کہ گویا میری پیشگوئیاں غلط نکلتی رہی ہیں ۔ چنانچہ جو پیشگوئی عبد اللہ آتھم کی نسبت تھی اور جو پیشگوئی احمد بیگ کے داماد کی نسبت تھی اور جو ایک پیشگوئی مولوی محمد حسین بٹالوی اور اُن کے بعض رفیقوں کی نسبت تھی ۔ ان سب کو بیان کر کے یہ دعویٰ کیا ہے کہ وہ پوری نہیں ہوئیں مگر میں ان پیشگوئیوں کی نسبت بار ہا لکھ چکا ہوں کہ وہ سنت اللہ کے موافق پوری ہو چکی ہیں ۔ عبد اللہ آتھم کی نسبت اور نیز احمد بیگ اور اُس کے داماد کی نسبت صدہا مرتبہ بیان کر چکا ہوں کہ یہ دونوں پیشگوئیاں شرطی تھیں ۔ عبداللہ آتھم کی نسبت پیشگوئی کے یہ لفظ تھے کہ وہ پندرہ مہینے میں ہلاک ہوگا بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے۔ یہ لفظ نہیں تھے کہ بشر طیکہ ظاہری طور پر مسلمان یہ بھی عبد الحکیم کے مخبط الحواس ہونے کی نشانی ہے کہ اس اپنی خواب کو جس میں محمد حسن بیگ کی موت بتلائی گئی تھی اور اس کے موافق حسن بیگ مر بھی گیا تھا ایک شیطانی خواب قرار دیتا ہے معلوم ہوتا ہے کہ جوش مخالفت نے اس شخص کی عقل مار دی ہے جس خواب کو واقعات نے سچی کر کے دکھلا دیا اور اُس نے منجانب اللہ ہونے پر موہر لگا دی وہ کیوں کر جھوٹی ہو سکتی ہے۔ جھوٹی اور نفسانی خواہیں تو وہ ہیں جواب اس کے مخالف آتی ہیں جن پر کوئی سچائی کی موہر نہیں مگر اس خواب میں شیطان کا ایک ذرہ دخل نہیں کیوں کہ یہ ایک ہیبت ناک واقعہ کے ساتھ پوری ہو گئی اور محیی ممیت تو خدا کا نام ہے شیطان کا نام نہیں ۔ ہاں اس سچی خواب سے میاں عبد الحکیم کی کوئی فضیلت ثابت نہیں ہوتی کیونکہ حضرت یوسف کے وقت میں فرعون کو بھی سچی خواب آگئی تھی اور بڑے بڑے کافروں کو بعض وقت سچی خوا میں آجاتی ہیں اور خدا کے مقبول علم غیب کی کثرت اور ایک خاص نصرت سے شناخت کئے جاتے ہیں نہ محض ایک دو خواب سے۔ منہ