حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 187 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 187

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۱۸۷ حقيقة الوحى نشانوں اور ہر ایک قسم کی رہنمائی کے کیوں اُس پر حجت پوری نہیں ہوئی یہ بحث محض فضول اور فرضی بکواس ہے کہ جس پر حجت پوری نہیں ہوئی وہ باوجود اس کے کہ اُس نے اسلام پر اطلاع پائی انکار کی حالت میں نجات پا جائے گا بلکہ ایسے تذکرہ میں خدا تعالیٰ کی ہتک ہے کیونکہ جس قادر توانا نے اپنے رسول کو بھیجا اُس کی اس میں کسر شان ہے اور نیز تخلف وعدہ لازم آتا ہے کہ باوجود اس کے کہ اُس نے یہ وعدہ بھی کیا کہ میں اپنی حجت پوری کروں گا پھر ۱۸۱ بھی وہ مکذبین پر اپنی حجت پوری نہیں کر سکا اور اُنہوں نے اُس کے رسول کی تکذیب بھی کی اور پھر نجات بھی پاگئے اور ہم جب خدا تعالیٰ کے نشانوں کو دیکھتے ہیں جو اُس نے دین اسلام کے لئے ظاہر کئے اور پھر ہم دلائل عقلیہ اور نقلیہ کو دیکھتے ہیں اور ہزار ہا خو بیاں اسلام میں پاتے ہیں جو غیر قوموں کے مذاہب میں نہیں اور خدا تعالیٰ کی طرف ترقی کرنے کا دروازہ محض اسلام میں ہی کھلا دیکھتے ہیں اور دوسرے مذاہب کو ایسی حالت میں پاتے ہیں کہ وہ یا تو مخلوق پرستی میں گرفتار ہیں اور یا خدا تعالیٰ کو خالق الکل اور مبدء الکل اور سر چشمہ کل فیوض کا نہیں مانتے تو ہمیں ایسے لوگوں پر افسوس آتا ہے جو ان بیہودہ باتوں کو دنیا میں پھیلاتے ہیں کہ جو شخص اسلام پر اطلاع تو رکھتا ہو مگر اس پر اتمام حجت نہ ہو وہ نجات پائے گا یہ ظاہر ہے کہ صحیح واقعات کو نہ ماننا گو عمداً نہ ہو تب بھی وہ نقصان رساں ہوتا ہے۔ مثلاً طبیبوں نے یہ اشتہار دیا ہے کہ آتشک زدہ عورت کے نزدیک مت جاؤ اور ایک شخص نے ایسی عورت سے صحبت کی اب اُس کا یہ کہنا بے فائدہ ہوگا کہ میں طبیبوں کے اس اشتہار سے بے خبر تھا مجھے کیوں آتشک ہوگئی۔ باوانا تک صاحب نے سچ کہا ہے۔ مع مند سے کہیں نا نکا جد کد مندا ہو اے نادانو ! جبکہ خدا نے اپنی سنت کے موافق اپنے دین قویم کی حجت پوری کر دی تو اب اس میں شبہات کو دخل دینا اور باوجود خدا کے اتمام حجت کے بے ہودہ باتوں کو پیش کرنا کیا ضرورت ہے۔ اگر در حقیقت خدا تعالیٰ کے علم میں کوئی ایسا ہوگا کہ اُس پر اتمام حجت یعنی اے نانک بُرے کاموں سے آخر برائی پیش آتی ہے۔ منہ ☆