حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 169 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 169

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۱۶۹ حقيقة الوحى ہے۔ تو اب اس بات کا سہل علاج ہے کہ اگر دوسرے لوگوں میں تخم دیانت اور ایمان ہے اور وہ ۱۶۵ منافق نہیں ہیں تو اُن کو چاہیے کہ ان مولویوں کے بارے میں ایک لمبا اشتہار ہر ایک مولوی کے نام کی تصریح سے شائع کر دیں کہ یہ سب کافر ہیں کیونکہ انہوں نے ایک مسلمان کو کافر بنایا۔ تب میں اُن کو مسلمان سمجھ لوں گا۔ بشرطیکہ اُن میں کوئی نفاق کا شبہ نہ پایا جاوے اور خدا کے کھلے کھلے معجزات کے مکذب نہ ہوں ورنہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّ الْمُنْفِقِينَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ کے یعنی منافق دوزخ کے نیچے کے طبقے میں ڈالے جائیں گے اور حدیث شریف میں یہ بھی ہے کہ ما زنا زان و هو مؤمن وما سرق سارق وهو مؤمن يعنى كوئى زانى زنا كى حالت میں اور کوئی چور چوری کی حالت میں مومن نہیں ہوتا پھر منافق نفاق کی حالت میں کیوں کر مومن ہو سکتا ہے۔ اگر یہ مسئلہ صحیح نہیں ہے کہ کسی کو کافر کہنے سے انسان خود کافر ہو جاتا ہے تو اپنے مولویوں کا فتویٰ مجھے دکھلا دیں میں قبول کرلوں گا اور اگر کافر ہو جاتا ہے تو دوسو مولوی کے کفر کی نسبت نام بنام ایک اشتہار شائع کر دیں۔ بعد اس کے حرام ہوگا کہ میں اُن کے اسلام میں شک کروں بشرطیکہ کوئی نفاق کی سیرت اُن میں نہ پائی جائے ۔ سوال (۷) دعوت پہنچ جانے سے کیا مراد ہے۔ الجواب: دعوت پہنچا دینے میں دو امر ضروری ہوتے ہیں ۔ اوّل یہ کہ وہ شخص جو خدا کی طرف سے بھیجا گیا یا ہے وہ لوگوں کو اطلاع دے دے کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے بھیجا گیا ہوں اور اُن کو اُن کی جیسا کہ میں نے بیان کیا کافرکومومن قرار دینے سے انسان کا فر ہو جاتا ہے کیونکہ جو شخص در حقیقت کافر ہے وہ اُس کے کفر کی نفی کرتا ہے اور میں دیکھتا ہوں کہ جس قدر لوگ میرے پر ایمان نہیں لاتے وہ سب کے سب ایسے ہیں کہ اُن تمام لوگوں کو وہ مومن جانتے ہیں جنہوں نے مجھ کو کافر ٹھہرایا ہے پس میں اب بھی اہل قبلہ کو کافر نہیں کہتا لیکن جن میں خود اُنہیں کے ہاتھ سے ان کی وجہ کفر کی پیدا ہوگئی ہے ان کو کیونکر مومن کہہ سکتا ہوں ۔ منہ ل النساء : ١٤٦ ۔